مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يُسْأَلُ عَنْهُ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . باب: قیامت کے دن کس چیز کے بارے میں بندے سے حساب لیا جائے گا ؟
حدیث نمبر: 17936
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا فَوْقَ الْإِزَارِ ، وَظِلُّ الْحَائِطِ ، وَجَرُّ الْمَاءِ ، فَضْلٌ يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، أَوْ يُسْأَلُ عَنْهُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفٍ فِيهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمَرْوَزِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تہبند کے علاوہ جو لباس ہے ، دیوار کا سایہ اور پانی کا مٹکا ، یہ اضافی چیزیں ہیں ، قیامت کے دن بندے سے ان کے بارے میں حساب لیا جائے گا ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں ) ان کے بارے میں سوال کیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صبح کے رجال ہیں ، صرف قاسم بن محمد بن یحیی مروزی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔