مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يُسْأَلُ عَنْهُ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . باب: قیامت کے دن کس چیز کے بارے میں بندے سے حساب لیا جائے گا ؟
عَنْ أَبِي عَسِيبٍ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةً فَمَرَّ بِي فَدَعَانِي ، فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ ، ثُمَّ مَرَّ بِأَبِي بَكْرٍ - رَحِمَهُ اللَّهُ - فَدَعَاهُ ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ ، ثُمَّ مَرَّ بِعُمَرَ فَدَعَاهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ ، فَانْطَلَقَ حَتَّى دَخَلَ حَائِطًا لِبَعْضِ الْأَنْصَارِ فَقَالَ لِصَاحِبِ الْحَائِطِ : " أَطْعِمْنَا [ بُسْرًا ] " . فَجَاءَ بِعِذْقٍ فَوَضَعَهُ ، فَأَكَلَ [ فَأَكَلَ ] رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ بَارِدٍ فَشَرِبَ فَقَالَ : " لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هَذَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ : فَأَخَذَ عُمَرُ الْعِذْقَ فَضَرَبَ بِهِ الْأَرْضَ حَتَّى تَنَاثَرَ الْبُسْرُ قِبَلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا لَمَسْئُولُونَ عَنْ هَذَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ . إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ : خِرْقَةٍ كَفَّ بِهَا عَوْرَتَهُ ، أَوْ كَسْرَةٍ سَدَّ بِهَا جَوْعَتَهُ ، أَوْ جُحْرٍ يَنْدَخِلُ فِيهِ مِنَ الْحَرِّ وَالْقَرِّ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوعسیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت باہر تشریف لائے ، آپ کا گزر میرے پاس سے ہوا آپ نے مجھے بلایا میں نکل کر آپ کے پاس آیا پھر آپ کا گزر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا آپ نے انہیں بلایا وہ نکل کر آپ کے پاس آ گئے پھر آپ کا گزر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا آپ نے انہیں بلایا ، وہ نکل کر آپ کے پاس آ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے ، یہاں تک کہ آپ ایک انصاری کے باغ میں داخل ہو گئے آپ نے باغ کے مالک سے کہا: ہمیں تازہ کھجوریں کھلاؤ وہ کھجوروں کا ایک گچھا لے کے آیا اور اس کو آگے رکھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے انہیں کھانا شروع کیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھنڈا پانی منگوایا وہ پیا گیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن تم سے ان کے بارے میں حساب لیا جائے گا ۔ “ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ گچھا پکڑا اور اسے زمین پر مارا ، یہاں تک کہ اس کی کھجوریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بکھر گئیں ، پھر انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا قیامت کے دن ہم سے ان کے بارے میں حساب لیا جائے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! البتہ تین چیزوں کا معاملہ مختلف ہے ، وہ کپڑا جس کے ذریعے آدمی اپنی شرمگاہ کو ڈھانپ لیتا ہے یا روٹی کا وہ ٹکڑا جس کے ذریعے وہ اپنی بھوک کو ختم کرتا ہے یا وہ مکان کہ گرمی یا سردی سے بچنے کے لئے جس میں وہ داخل ہوتا ہے ( یعنی اس میں رہتا ہے ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔