مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ لَا يُؤْبَهُ لَهُ . باب: اس شخص کا بیان ، جس کی پرواہ نہ کی جاتی ہو
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَفَعَهُ - قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ الضُّعَفَاءُ الْمَظْلُومُونَ . أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ ؟ كُلُّ جَعْظَرِيٍّ . أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخِيَارِكُمْ ؟ مَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا . أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشِرَارِكُمْ ؟ الثَّرْثَارُونَ ، الْمُتَشَدِّقُونَ ، الْمُتَفَيْهِقُونَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ : لَا نَعْلَمُهُ يُرْوَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَفِيهِ الْبَرَاءُ بْنُ يَزِيدَ ، فَإِنْ كَانَ هُوَ الْبَرَاءَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ فَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَإِنْ كَانَ هُوَ الْبَرَاءَ بْنَ يَزِيدَ الْهَمَذَانِيَّ ، فَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) “” “” کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ کمزور اور مظلوم لوگ ( جنتی ہوں گے ) کیا میں تمہیں اہل جہنم کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ہر بدمزاج شخص ( یا زیادہ کھانے والا موٹا شخص جہنمی ہو گا ) کیا میں تمہیں تمہارے بہترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ جن کے اخلاق اچھے ہوں ، کیا میں تمہیں ، تمہارے بدترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ وہ لوگ جو مصنوعی طریقے سے منہ بنا کر تکبر آمیز انداز میں کلام کرتے ہیں ۔ “ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ہمارے علم کے مطابق
یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ، اس کی سند میں ایک راوی براء بن یزید ہے ، اگر تو یہ براء بن عبداللہ بن یزید ہے ، تو پھر یہ ضعیف ہے ، اور اگر یہ براء بن یزید ہمدانی ہے تو پھر ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔