حدیث نمبر: 17917
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ وَأَهْلِ الْجَنَّةِ ، أَمَّا أَهْلُ الْجَنَّةِ ؟ فَكُلُّ ضَعِيفٍ مُسْتَضْعَفٍ ذِي طِمْرَيْنِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ ، وَأَمَّا أَهْلُ النَّارِ فَكُلُّ جَعْظَرِيٍّ جَوَّاظٍ ، جَمَّاعٍ مَنَّاعٍ ذِي تَبَعٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ يُعْتَضَدُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” کیا میں تمہیں اہل جہنم اور اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ جہاں تک اہل جنت کا تعلق ہے تو ہر کمزور اور کم تر حیثیت کا مالک شخص ، جس کا لباس عام سا ہو ( اور اس کا حال یہ ہوتا ہے ) اگر وہ اللہ کے نام پر قسم اٹھا لے ، تو اللہ تعالی اسے پوری کروا دے جہاں تک اہل جہنم کا تعلق ہے ، تو ہر موٹا تازہ شخص ( جو مال کو ) بہت زیادہ جمع کرنے والا ہو ( اور اللہ کی راہ میں وہ مال ) نہ دینے والا ہو ، جس کے خادم ہوں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث مضبوط ہوتی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17917
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (145/3)»