مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ لَا يُؤْبَهُ لَهُ . باب: اس شخص کا بیان ، جس کی پرواہ نہ کی جاتی ہو
عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي جِنَازَةٍ قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ عِبَادِ اللَّهِ ؟ الْفَظُّ الْمُسْتَكْبِرُ . أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ عِبَادِ اللَّهِ ؟ الضَّعِيفُ الْمُسْتَضْعَفُ ذِي الطِّمْرَيْنِ ، لَا يُؤْبَهُ لَهُ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں شریک تھے آپ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں اللہ کے بدترین بندوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ہر بدمزاج اور متکبر شخص ۔ کیا میں تمہیں اللہ کے بہترین بندوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ہر کمزور اور کم تر حیثیت کا مالک شخص ، جس کا لباس عام سا ہوتا ہے ، اس کی پرواہ نہیں کی جاتی ، لیکن ( اس کا حال یہ ہوتا ہے ) اگر وہ اللہ کے نام پر قسم اٹھا لے ، تو اللہ تعالیٰ اسے پوری کروا دے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر ہے ، جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔