حدیث نمبر: 17906
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مِسْكِينًا ، وَتَوَّفَنِي مِسْكِينًا ، وَاحْشُرْنِي فِي زُمْرَةِ الْمَسَاكِينِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَشَيْخُ الطَّبَرَانِيِّ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ الْأَوْزَاعِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے اللہ ! تو مجھے غریب ہونے کے طور پر زندہ رکھنا ، مجھے غریب ہونے کے طور پر موت دینا اور ( قیامت کے دن ) مجھے غریبوں کے گروہ میں اٹھانا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے امام طبرانی کے استاد اور عبیداللہ بن زیاد اوزاعی نامی راوی ، ان دونوں سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17906
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف