حدیث نمبر: 17903
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : اسْتَعْمَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ عَلَى الشَّامِ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَنْ أَعْطِ النَّاسَ أَعْطِيَاتِهِمْ ، وَاغْزُ بِهِمْ ، فَبَيْنَا هُوَ يُعْطِي النَّاسَ - وَذَلِكَ فِي آخِرِ النَّهَارِ - جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الرَّسَاتِيقِ فَقَالَ لَهُ : يَا مُعَاذُ ، مُرْ لِي بِعَطَائِي فَإِنِّى بِرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الرُّسْتَاقِ مِنْ مَكَانِ كَذَا فَلَعَلِّي آوِي إِلَى أَهْلِي قَبْلَ اللَّيْلِ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ ، لَا أُعْطِيكَ حَتَّى أُعْطِيَ هَؤُلَاءِ - يَعْنِي أَهْلَ الْمَدِينَةِ - ; سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْأَنْبِيَاءُ كُلُّهُمْ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ بِأَلْفَيْ عَامٍ ، وَفُقَرَاءُ الْمُسْلِمِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِأَرْبَعِينَ عَامًا ، وَإِنَّ أَهْلَ الْمَدَائِنِ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَهْلِ الرَّسَاتِيقِ بِأَرْبَعِينَ عَامًا ، تَفْضُلُ الْمَدَائِنُ بِالْجُمُعَةِ ، وَالْجَمَاعَاتِ ، وَحِلَقِ الذِّكْرِ ، وَإِذَا كَانَ بَلَاءٌ خُصُّوا بِهِ دُونَهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ : لَيْسَ بِذَاكَ تَفَرَّدَ بِأَشْيَاءَ ، وَقَالَ ابْنُ يُونُسَ : كَانَ يَفْهَمُ وَيَحْفَظُ ، وَقَالَ الذَّهَبِيُّ : حَافِظٌ رَحَّالٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

عبدالرحمن بن غنم بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو شام کا گورنر مقرر کیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں خط میں لکھا : کہ تم لوگوں کو ان کی تنخواہیں ادا کر دو اور پھر انہیں ساتھ لے کر جنگ میں حصہ لو ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ لوگوں کو ادائیگیاں کر رہے تھے ، یہ دن کے آخری حصے کی بات ہے ، اسی دوران دیہاتی علاقے کا رہنے والا ایک شخص ان کے پاس آیا ، اس نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے کہا: اے سیدنا معاذ ! آپ مجھے ادائیگی کرنے کا حکم جاری کر دیں ، کیونکہ میں فلاں دیہاتی علاقے کا رہنے والا شخص ہوں اور میں چاہتا ہوں ، میں رات ہونے سے پہلے اپنے گھر واپس چلا جاؤں ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں تمہیں اس وقت تک ادائیگی نہیں کروں گا ، جب تک ان لوگوں کو ادائیگی نہیں کر دیتا ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی مراد شہر والے لوگ تھے ، پھر انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تمام انبیاء کرام علیہم السلام ، سیدنا داؤد علیہ السلام اور سیدنا سلیمان علیہ السلام سے دو ہزار سال پہلے جنت میں داخل ہو جائیں گے ، اور غریب مسلمان ، امیر مسلمانوں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے ، اور شہروں کے رہنے والے لوگ ، دیہاتی علاقوں کے رہنے والوں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے ، شہروں کو جمعہ ، اجتماعات ، ذکر کے حلقوں کی وجہ سے فضیلت حاصل ہے اور اگر کوئی آزمائش ہو تو وہ بھی شہر میں آتی ہے دیہاتوں میں نہیں آتی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے , وہ کہتے ہیں : یہ روایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن سعید بن بشیر ہے ، امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ اتنے پائے کا نہیں ہے اور کچھ روایات نقل کرنے میں منفرد ہے ، ابن یونس کہتے ہیں : یہ سمجھ بھی رکھتا تھا اور حافظہ بھی رکھتا تھا ، امام ذہبی کہتے ہیں : یہ حافظ ہے اور اس نے علم کی طلب میں سفر کیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17903
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (77/20)»