حدیث نمبر: 17902
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ فِيهَا خَشَفَةً بَيْنَ يَدِي فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ قَالَ : بِلَالٌ . فَمَضَيْتُ فَإِذَا أَكْثَرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ الْمُهَاجِرُونَ ، وَذَرَارِيُّ الْمُسْلِمِينَ ، وَلَمْ أَرَ فِيهَا أَحَدًا أَقَلَّ مِنَ الْأَغْنِيَاءِ وَالنِّسَاءِ ، قِيلَ لِي : أَمَّا الْأَغْنِيَاءُ فَهُمْ هَهُنَا [ بِالْبَابِ ] يُحَاسَبُونَ وَيُمَحَّصُونَ ، وَأَمَّا النِّسَاءُ فَأَلْهَاهُمُ الْأَحْمَرَانِ : الذَّهَبُ وَالْحَرِيرُ " . ¤ قَالَ : " ثُمَّ خَرَجْنَا مِنْ أَحَدِ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ ، فَلَمَّا كُنْتُ عِنْدَ الْبَابِ أُتِيتُ بِكِفَّةٍ فَوُضِعْتُ فِيهَا ، وَوُضِعَتْ أُمَّتِي [ فِي كِفَّةٍ ] فَرَجَحْتُ بِهَا ، ثُمَّ أُتِيَ بِأَبِي بَكْرٍ فَوُضِعَ فِي كِفَّةٍ ، وَجِيءَ بِجَمِيعِ أُمَّتِي فَوُضِعَتْ فِي كِفَّةٍ ، فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ ، ثُمَّ جِيءَ بِعُمَرَ فَوُضِعَ فِي كِفَّةٍ ، وَجِيءَ بِجَمِيعِ أُمَّتِي فَوُضِعُوا ، فَرَجَحَ عُمَرُ ، وَعُرِضَتْ عَلَيَّ أُمَّتِي رَجُلًا رَجُلًا فَجَعَلُوا يَمُرُّونَ ، فَاسْتَبْطَأْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ، ثُمَّ جَاءَ بَعْدَ الْإِيَاسِ فَقُلْتُ : عَبْدَ الرَّحْمَنِ ! فَقَالَ : بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ [ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ] مَا خَلَصْتُ إِلَيْكَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنِّي لَا أَخْلُصُ إِلَيْكَ أَبَدًا إِلَّا بَعْدَ الْمُشِيبَاتِ ، قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : مِنْ كَثْرَةِ مَالِي أُحَاسَبُ فَأُمَحَّصُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِمَا مُطَرِّحُ بْنُ يَزِيدَ ، وَعَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ، وَهُمَا مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِمَا ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَحَدُ أَصْحَابِ بَدْرٍ وَالْحُدَيْبِيَةِ ، وَأَحَدُ الْعَشَرَةِ الْمَشْهُودِ لَهُمْ بِالْجَنَّةِ ، وَهُمْ مِنْ أَفْضَلِ الصَّحَابَةِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں جنت میں داخل ہوا ، میں نے اپنے آگے کوئی آہٹ سنی ، میں نے دریافت کیا : یہ کس کی ہے ؟ اس ( فرشتے ) نے بتایا : سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی ہے ، میں چلتا رہا ، تو اہل جنت میں اکثریت غریب مہاجرین اور مسلمانوں کے بچوں کی تھی ، اور وہاں سب سے کم تعداد خوشحال لوگوں اور عورتوں کی تھی ، مجھے بتایا گیا کہ جہاں تک خوشحال لوگوں کا تعلق ہے تو وہ دروازے پر رکے ہوئے ہیں ، ان سے حساب لیا جا رہا ہے اور تفتیش کی جا رہی ہے ، جہاں تک عورتوں کا تعلق ہے تو دو سرخ چیزوں ، یعنی سونے اور ریشم نے انہیں غافل کر دیا ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : ” پھر ہم جنت کے آٹھ دروازوں میں سے ایک دروازے سے باہر آئے ، جب میں دروازے کے پاس موجود تھا تو ایک ترازو لایا گیا ، مجھے ایک پلڑے میں رکھا گیا اور میری امت کو دوسرے پلڑے میں رکھا گیا تو میرا پلڑا وزنی تھا پھر ابوبکر کو لایا گیا اور اسے ایک پلڑے میں رکھا گیا اور میری پوری امت کو لا کر دوسرے پلڑے میں رکھا گیا تو ابوبکر کا پلڑا وزنی تھا پھر عمر کو لا کر ایک پلڑے میں رکھا گیا اور میری پوری امت کو لا کر دوسرے پلڑے میں رکھا گیا تو عمر کا پلڑا وزنی تھا پھر میری امت کے ایک ، ایک فرد کو پیش کیا گیا ، وہ لوگ گزرتے رہے ، عبدالرحمن کو آنے میں تاخیر ہو گئی ، وہ اس وقت آیا جب اس کے حوالے سے مایوسی ہو چکی تھی ، میں نے کہا: اے عبدالرحمن ! ( تم کہاں رہ گئے تھے ؟ ) اس نے کہا: یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں خلاصی پا کر اس وقت آپ کے پاس آیا ہوں ، جب میں یہ گمان کر رہا تھا کہ میں کبھی بھی نجات پا کر آپ کے پاس نہیں آ سکوں گا ، سوائے اس کے کہ ( حساب دیتے ہوئے ) بوڑھا ہو جاؤں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کسی چیز کا ؟ سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اپنے مال کے زیادہ ہونے کا مجھ سے حساب لیا جاتا رہا اور تفتیش کی جاتی رہی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ان دونوں کی سند میں ایک راوی مطرح بن یزید ہے اور ایک راوی علی بن یزید ہے اور ان دونوں کے ضعیف ہونے پر اتفاق پایا جاتا ہے ۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ان حضرات میں سے ایک ہیں ، جنہیں غزوہ بدر ، صلح حدیبیہ میں شرکت کا شرف حاصل ہے اور یہ ان دس افراد میں سے ایک ہیں ، جن کے بارے میں جنت کی گواہی دی گئی ، اور یہ فضیلت رکھنے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17902
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (259/5)»