مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الْفُقَرَاءِ . باب: فقراء کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ أَوَّلَ ثُلَّةٍ تَدْخُلُ [ الْجَنَّةَ ] الِفُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ يُتَّقَى بِهِمُ الْمَكَارِهُ ، وَإِذَا أُمِرُوا سَمِعُوا وَأَطَاعُوا ، وَإِذَا كَانَتْ لِرَجُلٍ مِنْهُمْ حَاجَةٌ إِلَى السُّلْطَانِ لَمْ تُقْضَ [ لَهُ ] حَتَّى يَمُوتَ ، وَهِيَ فِي صَدْرِهِ ، وَاللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - يَدْعُو يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْجَنَّةَ فَتَأْتِي بِزُخْرُفِهَا وَزِينَتِهَا فَيَقُولُ : إِنَّ عِبَادِيَ الَّذِينَ قَاتَلُوا فِي سَبِيلِي ، وَقُتِلُوا وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي وَجَاهَدُوا [ فِي سَبِيلِي ] ، ادْخُلُوا الْجَنَّةَ ، فَيَدْخُلُونَهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَزَادَ فِيهِ : " ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِلَا عَذَابٍ ، وَلَا حِسَابٍ ، وَتَأْتِي الْمَلَائِكَةُ فَيَسْجُدُونَ وَيَقُولُونَ : رَبَّنَا ، نَحْنُ نُسَبِّحُكَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ، وَنُقَدِّسُ لَكَ ، مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ آثَرْتَهُمْ عَلَيْنَا ؟ ! فَيَقُولُ اللَّهُ - جَلَّ ذِكْرُهُ - : عِبَادِي الَّذِينَ قَاتَلُوا فِي سَبِيلِي ، وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي ، فَتَدْخُلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ مِنْ كُلِّ بَابٍ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ " . وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي عُشَّانَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جنت میں داخل ہونے والا پہلا گروہ غریب مہاجرین کا ہو گا ، جن کے ذریعے ناپسندیدہ صورتحال سے بچا جائے گا ، جب انہیں حکم دیا جائے تو وہ اطاعت و فرمانبرداری سے کام لیں گے ، جب ان میں سے کسی فرد کو کسی حکمران سے کوئی کام ہو گا تو اس کا وہ کام پورا نہیں ہو گا یہاں تک کہ وہ شخص مر جائے گا اور وہ حاجت اس کے سینے میں رہ جائے گی ، قیامت کے دن اللہ تعالی جنت کو بلائے گا تو وہ اپنی آرائش و زیبائش کے ہمراہ آئے گی ، اللہ تعالی فرمائے گا : میرے کچھ بندے ہیں ، جنہوں نے میری راہ میں جنگ میں حصہ لیا اور وہ شہید ہو گئے ، انہیں میری خاطر اذیت پہنچائی گئی ، انہوں نے میری راہ میں جہاد کیا ( پھر ان بندوں سے کہا: جائے گا : ) تم لوگ جنت میں داخل ہو جاؤ ! تو وہ کسی حساب اور عذاب کے بغیر اس میں داخل ہو جائیں گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور انہوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” تم کسی عذاب اور حساب کے بغیر جنت میں داخل ہو جاؤ ! پھر فرشتے آئیں گے اور سجدے میں چلے جائیں گے اور یہ عرض کریں گے : اے ہمارے پروردگار ! ہم رات دن تیری تسبیح بیان کرتے ہیں ، تیری پاکی کا اعتراف کرتے ہیں ۔ یہ لوگ کون ہیں ؟ جنہیں تو نے ہم پر ترجیح دی ہے ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : یہ میرے وہ بندے ہیں ، جنہوں نے میری راہ میں جنگ میں حصہ لیا ، انہیں میری راہ میں اذیت پہنچائی گئی ، تو فرشتے ہر دروازے سے اُن پر داخل ہوں گے اور یہ کہیں گے : ” تم پر سلام ہو ! اُس کی وجہ سے ، جو تم نے صبر سے کام لیا ، اور آخرت کا ٹھکانہ عمدہ ہے ۔ “ امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوعشانہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔