حدیث نمبر: 17884
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا ، وَطَلَعَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ : " يَأْتِي قَوْمٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نُورُهُمْ كَنُورِ الشَّمْسِ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : نَحْنُ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لَا . وَلَكُمْ خَيْرٌ كَثِيرٌ ، وَلَكِنَّهُمُ الْفُقَرَاءُ الْمُهَاجِرُونَ الَّذِينَ يُحْشَرُونَ مِنْ أَقْطَارِ الْأَرْضِ " . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَزَادَ فِي الْكَبِيرِ : ثُمَّ قَالَ : " طُوبَى لِلْغُرَبَاءِ ، طُوبَى لِلْغُرَبَاءِ " . قِيلَ : وَمَنِ الْغُرَبَاءُ ؟ قَالَ : " نَاسٌ صَالِحُونَ قَلِيلٌ فِي نَاسٍ سُوءٌ كَثِيرٌ ، مَنْ يَعْصِيهِمْ أَكْثَرُ مِمَّنْ يُطِيعُهُمْ " .
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، سورج نکل آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن کچھ لوگ آئیں گے ، جن کا نور ، سورج کے نور کی مانند ہو گا ۔ “ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا وہ ہم ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! تمہارے لئے بہت زیادہ بھلائی ہے ، لیکن وہ غریب مہاجرین ہوں گے جو زمین کے مختلف حصوں سے اکٹھے کیے جائیں گئے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے انہوں نے معجم کبیر میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” غریب لوگوں کے لیے مبارکباد ہے ! غریب لوگوں کے لیے مبارکباد ہے ! عرض کی گئی : غریب لوگوں سے مراد کون ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ نیک لوگ ، جو تھوڑے ہوں اور بہت سے برے لوگوں کے درمیان موجود ہوں ، ان کی فرمانبرداری کرنے والوں کے مقابلے میں ، اُن کی نافرمانی کرنے والے لوگ زیادہ ہوں ۔ “

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17884
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن