مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا قَلَّ وَكَفَى خَيْرٌ مِمَّا كَثُرَ وَأَلْهَى . باب: جو چیز تھوڑی ہو اور کفایت کر جائے ، اور جو چیز زیادہ ہو اور غافل کر دے
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا طَلَعَتْ شَمْسٌ قَطُّ إِلَّا بُعِثَ بِجَنْبِهَا مَلَكَانِ يُنَادِيَانِ يُسْمِعَانِ أَهْلَ الْأَرْضِ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، هَلُمُّوا إِلَى رَبِّكُمْ ، مَا قَلَّ وَكَفَى خَيْرٌ مِمَّا كَثُرَ وَأَلْهَى " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَزَادَ : " وَلَا آبَتْ شَمْسٌ قَطُّ إِلَّا بُعِثَ بِجَنْبِهَا مَلَكَانِ يُنَادِيَانِ : اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا ، وَأَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " اللَّهُمَّ مَنْ أَنْفَقَ فَأَعْطِهِ خَلَفًا ، وَمَنْ أَمْسَكَ فَأَعْطِهِ تَلَفًا " . وَرِجَالُ أَحْمَدَ ، وَبَعْضُ رِجَالِ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب بھی سورج طلوع ہوتا ہے ، تو اُس کے ساتھ دو فرشتے ہوتے ہیں ، جو اعلان کرتے ہیں : اور دو گروہوں ( یعنی جنات اور انسانوں ) کے علاوہ تمام اہل زمین کو اُن ( فرشتوں ) کی آواز آتی ہے ( وہ یہ کہتے ہیں : ) ” اے لوگو ! اپنے پروردگار کی طرف آ جاؤ ! جو چیز تھوڑی ہو اور کفایت کر جائے ، وہ اُس سے زیادہ بہتر ہے ، جو زیادہ ہو اور غافل کر دے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور انہوں نے اس میں یہ الفاظ زاند نقل کیے ہیں : ” جب سورج غروب ہوتا ہے تو اس کے ہمراہ دو فرشتوں کو بھیجا جاتا ہے ، جو بلند آواز میں یہ کہتے ہیں : اے اللہ ! ( اپنی راہ میں ) خرچ کرنے والے کو اُس کی جگہ مزید عطا فرما ! اور ( اپنی راہ میں ) خرچ نہ کرنے والے ( کے مال کو ) ضائع کر دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” اے اللہ ! جو خرچ کرے ، تو اُس کی جگہ اسے عطا فرما ، اور جو خرچ نہ کرے ، اُس ( کے مال ) کو ضائع کر دے ۔ “ امام أحمد کے رجال اور طبرانی کی معجم کبیر میں اسانید کے بعض رجال صحیح کے رجال ہیں ۔