وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَضَى نَهْمَتَهُ فِي الدُّنْيَا حِيلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ شَهْوَتِهِ فِي الْآخِرَةِ ، وَمَنْ فَدَّ عَيْنَيْهِ إِلَى زِينَةِ الْمُتْرَفِينَ كَانَ مَهِينًا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ ، وَمَنْ صَبَرَ عَلَى الْقُوتِ الشَّدِيدِ صَبْرًا جَمِيلًا أَسْكَنَهُ اللَّهُ مِنَ الْفِرْدَوْسِ حَيْثُ شَاءَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص دنیا میں کھانے پینے کے حوالے سے اپنی خواہش پوری کر لیتا ہے ، آخرت میں اس شخص ، اور اس کی خواہش کے درمیان رکاوٹ آ جائے گی ، اور جو شخص اپنی نگاہیں خوش حال لوگوں کی زینت کی طرف رکھتا ہے ، وہ آسمانوں کی بادشاہی میں بے عزت ہوتا ہے ، جو شخص بنیادی ضروریات پر صبر جمیل سے کام لیتا ہے ، اللہ تعالیٰ فردوس میں اُسے وہاں ٹھہرائے گا جہاں وہ چاہے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمرو بجلی ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔