حدیث نمبر: 17819
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَصْبَحَ حَزِينًا عَلَى الدُّنْيَا أَصْبَحَ سَاخِطًا عَلَى رَبِّهِ تَعَالَى ، وَمَنْ أَصْبَحَ يَشْكُو مُصِيبَةً نَزَلَتْ بِهِ ، فَإِنَّمَا يَشْكُو اللَّهَ تَعَالَى ، وَمَنْ تَضَعْضَعَ لِغَنِيٍّ لِيَنَالَ مِمَّا فِي يَدَيْهِ أَسْخَطَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - وَمَنْ أُعْطِيَ الْقُرْآنَ فَدَخَلَ النَّارَ ; فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ وَهْبُ بْنُ رَاشِدٍ الْبَصْرِيُّ صَاحِبُ ثَابِتٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص ایسی حالت میں صبح کرتا ہے کہ وہ دنیا کے حوالے سے پریشان ہو ، تو وہ ایسی حالت میں صبح کرتا ہے کہ وہ اپنے پروردگار سے ناراض ہوتا ہے اور جو شخص ایسی حالت میں صبح کرتا ہے کہ وہ کسی نازل ہونے والی مصیبت کا شکوہ کر رہا ہو ، تو وہ شخص دراصل اللہ تعالیٰ کی شکایت کر رہا ہوتا ہے ، اور جو شخص کسی مالدار کے سامنے عاجزی کا اظہار کرتا ہے ، تاکہ اس کے پاس موجود مال میں سے کچھ حاصل کر لے ، تو وہ اللہ تعالیٰ کو ناراض کر دیتا ہے ، اور جس شخص کو قرآن دیا جائے اور پھر بھی وہ جہنم میں جائے ، اللہ تعالیٰ اُسے دور کر دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی وہب بن راشد بصری ہے ، جو ثابت کا شاگرد ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17819
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جدا
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (726)»