مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يَسْتَعِينُ بِالنِّعَمِ عَلَى الْمَعَاصِي . باب: اس شخص کا بیان ، جو نعمتوں کو گناہوں کے لئے استعمال کرتا ہے
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا رَأَيْتَ اللَّهَ يُعْطِي الْعَبْدَ مَا يُحِبُّ ، وَهُوَ مُقِيمٌ عَلَى مَعَاصِيهِ ; فَإِنَّمَا ذَلِكَ مِنْهُ لَهُ اسْتِدْرَاجٌ " . ثُمَّ نَزَعَ بِهَذِهِ الْآيَةِ : فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُبْلِسُونَ فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ : الْوَلِيدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمِصْرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب تم یہ دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے کسی بندے کو وہ چیز عطا کی ہے ، جسے وہ پسند کرتا ہے اور وہ بندہ پھر بھی گناہوں پر کاربند رہتا ہے ، تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس شخص کے لئے استدراج ہے ، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ” جب وہ اس چیز کو بھول گئے ، جو انہیں نصیحت کی گئی تھی ، تو ہم نے اُن پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے ، یہاں تک کہ جب وہ اُن چیزوں سے خوش ہونے لگے ، جو انہیں دی گئی تھیں ، تو ہم نے اچانک اُن کی ( عذاب کی شکل میں ) پکڑ کی ، تو وہ مایوس ہو کر رہ گئے ، تو اس قوم کی جڑ کاٹ دی گئی ، جنہوں نے ظلم کیا تھا ، اور ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد ولید بن عباس مصری کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔