حدیث نمبر: 17795
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عِيَاضٍ الْأَشْعَرِيِّ ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَوْ سِيلَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَتَمَنَّى إِلَيْهِمَا ثَالِثًا ، وَلَا يُشْبِعُ ابْنَ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمُسَيِّبُ بْنُ وَاضِحٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ وَضُعِّفَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَلِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ ذَكَرْتُهَا فِي التَّفْسِيرِ فِي سُورَةِ ( لَمْ يَكُنْ ) فَإِنَّ تِلَاوَةَ مَا زِيدَ فِيهَا ، وَمَا كَانَ قُرْآنًا وَنُسِخَتْ تِلَاوَتُهُ فِيهَا أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا کعب بن عیاض اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اگر ابن آدم کو مال کی دو وادیاں دیدی جائیں ، تو وہ ان کے ہمراہ تیسری کی تمنا کرے گا ، ابن آدم کو صرف مٹی سیر کر سکتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے جو توبہ کر لیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسیب بن واضح ہے ، جس کی توثیق بھی کی گئی ہے اور اسے ضعیف بھی قرار دیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کے مختلف طرق ہیں ، جنہیں میں نے سورہ لم یکن کی تفسیر میں ذکر کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17795
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (180/19)»