حدیث نمبر: 17755
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا أَبْقَى صُبْحَ ثَالِثَةٍ وَعِنْدِي مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا شَيْئًا أُعِدُّهُ لِدَيْنٍ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ عَطِيَّةُ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرے پاس اُحد پہاڑ سونے کا ہو کر موجود ہو ، اور پھر تیسرے دن کی صبح ، اُس میں سے کچھ بھی میرے پاس موجود ہو ، سوائے اُس کے ، جس کو میں نے قرض کی ادائیگی کے لیے سنبھال کے رکھا ہو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطیہ ہے جسے ایک سے زیادہ افراد نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17755
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3659)»