حدیث نمبر: 17754
وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ : أُتِيَ عُمَرُ بِمَالٍ فَقَسَّمَهُ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ فَفَضَلَتْ مِنْهُ فَضْلَةٌ ، فَاسْتَشَارَ فِيهَا فَقَالُوا : لَوْ تَرَكْتُهُ لِنَائِبَةٍ إِنْ كَانَتْ . قَالَ : وَعَلِيٌّ سَاكِتٌ لَا يَتَكَلَّمُ ، فَقَالَ : مَا لَكَ يَا أَبَا الْحَسَنِ لَا تَتَكَلَّمُ ؟ قَالَ : قَدْ أَخْبَرَ الْقَوْمُ ، فَقَالَ عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - : لَتُكَلِّمُنِي . فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَغَ مِنْ قِسْمَةِ هَذَا الْمَالِ ، وَذَكَرَ حَدِيثَ مَالِ الْبَحْرَيْنِ حِينَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَنْ يُقَسِّمَهُ اللَّيْلَ ، فَصَلَّى الصَّلَوَاتِ فِي الْمَسْجِدِ ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى فَرَغَ مِنْهُ ، فَقَالَ : لَا جَرَمَ لَتُقَسِّمَنَّهُ ; فَقَسَّمَهُعَلِيٌّ فَأَصَابَنِي مِنْهُ ثَمَانُمِائَةِ دِرْهَمٍ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ مال لایا گیا ، وہ انہوں نے مسلمانوں کے درمیان تقسیم کیا ، اس مال میں سے کچھ بچ گیا ، انہوں نے اس بچے ہوئے مال کے بارے میں مشورہ لیا ، تو لوگوں نے کہا: اگر آپ اسے کسی ممکنہ ضروری صورتحال کے لئے سنبھال کے رکھیں ، تو یہ مناسب ہو گا ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس دوران خاموش رہے انہوں نے کوئی بات نہیں کی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے : اے ابوالحسن ! کیا وجہ ہے ؟ آپ نے کوئی بات نہیں کی ؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں نے بتا تو دیا ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ بھی مجھے کچھ کہیں ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: بے شک اللہ تعالیٰ اس مال کی تقسیم سے فارغ ہو چکا ہے ، پھر انہوں نے وہ حدیث ذکر کی ، جو بحرین کے مال کے بارے میں ہے ، جب وہ مال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اس مال کی تقسیم کے درمیان ، رات رکاوٹ بن گئی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام نمازیں مسجد میں ادا کی تھیں ، اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے میں ( یعنی اس مال کے حوالے سے ) پریشانی دیکھی تھی ، یہاں تک کہ آپ اس کے حوالے سے فارغ ہو گئے ( یعنی جب آپ فارغ ہو گئے تو آپ کی پریشانی ختم ہوئی ) ۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اب تو یہ لازم ہے کہ آپ ہی اس مال کو تقسیم کریں ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وہ مال تقسیم کیا ۔ راوی کہتے ہیں : اُس میں سے میرے حصے میں آٹھ سو درہم آئے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ مدلس ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17754
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف