مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْإِنْفَاقِ وَالْإِمْسَاكِ . باب: خرچ کرنا اور روک کے رکھنا ( یعنی خرچ نہ کرنا )
حدیث نمبر: 17752
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ سَاهِمُ الْوَجْهِ ، فَحَسِبْتُ ذَلِكَ مِنْ وَجَعٍ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لَكَ سَاهِمُ الْوَجْهِ ؟ فَقَالَ : " مِنْ أَجْلِ الدَّنَانِيرِ السَّبْعَةِ الَّتِي أَتَيْنَا بِهَا أَمْسِ ، أَمْسَيْنَا وَهِيَ فِي خُصْمِ الْفِرَاشِ " . ¤محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ، آپ کا چہرہ مبارک متغیر تھا ، میں سمجھی کہ شاید وہ کسی تکلیف کی وجہ سے ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا وجہ ہے ؟ کہ آپ کا چہرہ متغیر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان سات دیناروں کی وجہ سے ایسا ہے ، جو گزشتہ شام ہمارے پاس لائے گئے تھے ، اور شام گزر گئی اور وہ بستر کے کونے میں موجود ہیں ۔ “