مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْإِنْفَاقِ وَالْإِمْسَاكِ . باب: خرچ کرنا اور روک کے رکھنا ( یعنی خرچ نہ کرنا )
وَعَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ عُمَرُ لِلنَّاسِ : مَا تَرَوْنَ فِي فَضْلٍ فَضَلَ عِنْدَنَا مِنْ هَذَا الْمَالِ ؟ فَقَالَ النَّاسُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَدْ شَغَلْنَاكَ عَنْ أَهْلِكَ ، وَضَيْعَتِكَ ، وَتِجَارَتِكَ ; فَهُوَ لَكَ ، فَقَالَ لِي : مَا تَقُولُ أَنْتَ ؟ فَقُلْتُ : قَدْ أَشَارُوا عَلَيْكَ ، فَقَالَ لِي : قُلْ . فَقُلْتُ : لِمَ تَجْعَلُ يَقِينَكَ ظَنًّا ، فَقَالَ : لَتَخْرُجَنَّ مِمَّا قُلْتَ ، فَقُلْتُ : أَجَلْ وَاللَّهِ لَأَخْرُجَنَّ مِمَّا قُلْتُ ، أَتَذْكُرُ حِينَ بَعَثَكَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاعِيًا فَأَتَيْتَ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَمَنَعَكَ صَدَقَتَهُ ، فَكَانَ بَيْنَكُمَا شَيْءٌ ، فَقُلْتَ لِي : انْطَلِقْ مَعِيَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدْنَاهُ خَاثِرًا فَرَجَعْنَا ، ثُمَّ غَدَوْنَا عَلَيْهِ فَوَجَدْنَاهُ طَيِّبَ النَّفْسِ ، فَأَخْبَرْتَهُ بِالَّذِي صَنَعَ فَقَالَ لَكَ : " أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ ؟ " . وَذَكَرْنَا لَهُ الَّذِي مِنْ خُثُورِهِ فِي الْيَوْمِ الْأَوَّلِ ، وَالَّذِي رَأَيْنَاهُ مِنْ طِيبِ نَفْسِهِ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي فَقَالَ : " إِنَّكُمَا أَتَيْتُمَا فِي الْيَوْمِ الْأَوَّلِ ، وَقَدْ بَقِيَ عِنْدِي مِنَ الصَّدَقَةِ دِينَارَانِ ، فَكَانَ ذَلِكَ الَّذِي رَأَيْتُمَا مِنْ خُثُورِي لَهُ ، وَأَتَيْتُمَانِي الْيَوْمَ وَقَدْ وَجَّهْتُهُمَا فَذَلِكَ الَّذِي رَأَيْتُمَا مِنْ طِيبِ نَفْسِي " . فَقَالَ عُمَرُ : صَدَقْتَ وَاللَّهِ ، لَأَشْكُرَنَّ لَكَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَلِيٍّ وَلَا عُمَرَ ; فَهُوَ مُرْسَلٌ صَحِيحٌ . ¤ وَكَذَلِكَ أَبُو يَعْلَى ، وَزَادَ فِيهِ فَقُلْتُ : لِمَ تَجْعَلُ يَقِينَكَ ظَنًّا ، وَعِلْمَكَ جَهْلًا ؟ فَقَالَ : لِتَخْرُجْنَ مِمَّا قُلْتَ ، أَوْ لَأُعَاقِبَنَّكَ ، وَقَالَ : لَأَشْكُرَنَّ لَكَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ ، فَقُلْتُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، لِمَ تُعَجِّلُ الْعُقُوبَةَ وَتُؤَخِّرُ الشُّكْرَ . ¤ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّكُمَا أَتَيْتُمَانِي وَعِنْدِي دَنَانِيرُ قَدْ قَسَّمْتُهَا وَبَقِيَتْ مِنْهَا سَبْعَةٌ " .ابوبختری نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے
یہ روایت نقل کی ہے : وہ بیان کرتے ہیں : ” ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے کہا: اس مال میں سے جو مال بچ گیا ہے ، اس کے بارے میں تم لوگوں کی کیا رائے ہے ؟ لوگوں نے کہا: اے امیر المؤمنین ! ہماری وجہ سے آپ اپنے اہل خانہ کو ، اپنی زمین کو ، اپنی تجارت کو وقت نہیں دے پاتے ہیں ، تو یہ مال آپ کو ملنا چاہیے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے دریافت کیا : آپ کیا کہتے ہیں ؟ میں نے جواب دیا : لوگوں نے آپ کو مشورہ دے تو دیا ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا : آپ بھی کچھ کہیں ! تو میں نے کہا: آپ اپنے یقین کو گمان کیوں بناتے ہیں ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ اپنی بات کی وضاحت کریں ، میں نے کہا: ٹھیک ہے ، اللہ کی قسم ! میں اپنی بات واضح کر دیتا ہوں ، کیا آپ کو یہ بات یاد ہے ؟ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو زکوۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا ، تو آپ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تھے ، انہوں نے اپنی زکوۃ آپ کو نہیں دی تھی ، اور آپ دونوں کے درمیان تکرار ہو گئی تھی ، آپ نے مجھ سے یہ کہا: تھا : تم میرے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو ! جب ہم آئے ، تو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پریشان پایا ، تو ہم واپس آ گئے ، اگلے دن ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو ہم نے آپ کو پایا کہ آپ کا مزاج خوشگوار ہے ، آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے طرز عمل کے بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے فرمایا : کیا تم یہ بات نہیں جانتے ہو ؟ کہ آدمی کا چچا ، اُس کے باپ کی جگہ ہوتا ہے ، پھر ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بات ذکر کی کہ گزشتہ دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پریشان تھے ، اور آج کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج خوشگوار تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : گزشتہ دن جب تم دونوں میرے پاس آئے تھے ، اُس وقت میرے پاس صدقہ کے مال میں سے دو دینار بچ گئے تھے ، تو ان دونوں کی وجہ سے میں پریشان تھا ، جو تم دونوں نے دیکھا تھا ، اور آج جب تم دونوں میرے پاس آئے ہو ، تو میں ان دونوں کو خرچ کر چکا ہوں ، اسی لئے تم میرے مزاج کو خوشگوار دیکھ رہے ہو ۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ( سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ) یہ کہا: آپ نے ٹھیک کہا: ہے ، اللہ کی قسم ! اور میں پہلے اور بعد میں ، آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ بختری نامی راوی نے ، نہ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے اور نہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے ، تو
یہ روایت مرسل اور مستند ہے ۔ امام ابویعلیٰ نے بھی اسے اسی طرح نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” میں نے کہا: آپ کیوں اپنے یقین کو گمان اور اپنے علم کو جہالت بناتے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا: یا تو تم اپنی بات کی وضاحت کرو ، ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا ۔ ( بعد میں ) انہوں نے یہ کہا: میں پہلے اور بعد میں تمہارا شکریہ ادا کرتا ہوں ، تو میں نے کہا: اے امیر المؤمنین ! آپ نے سزا کا ذکر جلدی کیوں کیا ؟ اور شکریہ کو مؤخر کیوں کیا ؟ امام بزار نے بھی
یہ روایت اسی طرح نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) ” جب تم دونوں میرے پاس آئے تھے ، تو میرے پاس کچھ دینار موجود تھے ، جنہیں میں نے تقسیم کر دیا تھا اور ان میں سے سات بچ گئے تھے ۔ “