مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا يَخَافُ مِنَ الْغِنَى . باب: خوشحالی کے بارے میں کیا اندیشہ ہوتا ہے ؟
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : بَيْنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ إِذْ قَامَ أَعْرَابِيٌّ فِيهِ جَفَاءٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَكَلَتْنَا الضَّبُعُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " غَيْرُ ذَلِكَ أَخْوَفُ لِي عَلَيْكُمْ ، حِينَ تُصَبُّ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا صَبًّا ، فَيَا لَيْتَ أُمَّتِي لَا تَلْبَسُ الذَّهَبَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَقَدْ تَقَدَّمَ هَذَا الْحَدِيثُ وَغَيْرُهُ فِي كِتَابِ الزِّينَةِ . ¤سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ، اس دوران ایک دیہاتی کھڑا ہوا جس کے انداز میں کچھ سخی تھی وہ بولا: یا رسول اللہ ! قحط سالی نے ہمیں کھا لیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے تم لوگوں کے بارے میں اس کے علاوہ چیز کے حوالے سے زیادہ اندیشہ ہے ، جب تم پر دنیا کو انڈیل دیا جائے گا ، تو اے کاش ! میری امت اس وقت سونا نہ پہنے ۔ “ یہ روایت امام أحمد ، امام بزار نے ، امام طبرانی میں معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے
یہ روایت اور دیگر روایات کتاب الزینہ میں گزر چکی ہیں ۔