حدیث نمبر: 17743
وَعَنَ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ : سَمِعَتِ الْأَنْصَارُ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ قَدِمَ بِمَالٍ مِنْ قِبَلِ الْبَحْرَيْنِ ، وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَهُ إِلَى الْبَحْرَيْنِ ، فَوَافَوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الصُّبْحِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَرَّضُوا لَهُ ، فَلَمَّا رَآهُمْ تَبَسَّمَ وَقَالَ : " لَعَلَّكُمْ سَمِعْتُمْ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ قَدِمَ وَقَدِمَ بِمَالٍ ؟ " . قَالُوا : أَجَلْ . يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " أَبْشِرُوا وَأَمِّلُوا خَيْرًا ، فَوَاللَّهِ ، مَا الْفَقْرُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ ، وَلَكِنْ إِذَا صُبَّتْ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا صَبًّا فَتَنَافَسْتُمُوهَا كَمَا تَنَافَسَهَا مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار نے یہ اطلاع سنی کہ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بحرین سے مال لے کر آئے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بحرین بھیجا ہوا تھا ، صبح کی نماز میں انصار کی بہت سی تعداد شریک ہوئی ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی ، تو وہ لوگ آپ کے سامنے آ گئے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ملاحظہ فرمایا تو آپ مسکرا دیئے ، آپ نے ارشاد فرمایا : شاید تمہیں یہ اطلاع مل گئی ہے کہ ابوعبیدہ آ گیا ہے اور وہ مال لے کر آیا ہے ، ان لوگوں نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ خوشخبری حاصل کرو اور بھلائی کی امید رکھو ، اللہ کی قسم ! مجھے تمہارے بارے میں غربت کا اندیشہ نہیں ہے ، بلکہ تم پر دنیا کو جب انڈیل دیا جائے گا تو تم اس کی طرف راغب ہو جاؤ گے ، جس طرح تم سے پہلے کے لوگ اس کی طرف راغب ہو گئے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17743
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح