مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي الْمَوَاعِظِ . باب: مواعظ کا مزید بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَرَأَ : " بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا " فَقَالَ : هَلْ تَدْرُونَ بِأَيِّ شَيْءٍ ابْتَدَأَ بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا ؟ لِأَيِّ شَيْءٍ آثَرْنَا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا ؟ عُجِّلَتْ لَنَا الدُّنْيَا ، وَأُوتِينَا لَذَّتَهَا وَبَهْجَتَهَا ، وَغُيِّبَتْ عَنَّا الْآخِرَةُ ، وَزُوِيَتْ عَنَّا فَأَحْبَبْنَا الْعَاجِلَ ، وَتَرَكْنَا الْآجِلَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ” بلکہ تم دنیاوی زندگی کو ترجیح دیتے ہو ۔ “ پھر انہوں نے فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو ؟ دنیاوی زندگی کا آغاز کس چیز کے ذریعے ہوا ہے ؟ اور ہم کس وجہ سے دنیاوی زندگی کو ترجیح دیتے ہیں ؟ ہمیں دنیا جلدی دیدی گئی ہے اور ہمیں اس کی لذت اور خوبصورتی بھی دی گئی ہے ، جبکہ آخرت ہم سے پوشیدہ ہے ، اور اُسے ہم سے لپیٹ کے رکھا گیا ہے ، تو ہم جلدی ملنے والی چیز کو پسند کرتے ہیں ، اور دیر سے ملنے والی چیز کو چھوڑ دیتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔