حدیث نمبر: 17736
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : مَا هُوَ آتٍ قَرِيبٌ ، إِلَّا أَنَّ الْبَعِيدَ مَا لَيْسَ بِآتٍ ، لَا يَعْجَلُ اللَّهُ لِعَجَلَةِ أَحَدٍ ، وَلَا يَخِفُّ لِأَمْرِ النَّاسِ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا مَا شَاءَ النَّاسُ ، يُرِيدُ اللَّهُ أَمْرًا ، وَيُرِيدُ النَّاسُ أَمْرًا ، مَا شَاءَ اللَّهُ كَانَ وَلَوْ بَاعَدَهُ النَّاسُ ، وَلَا مُقَرِّبَ لَمَا بَاعَدَهُ اللَّهُ ، وَلَا مُبْعِدَ لِمَا قَرَّبَ اللَّهُ ، وَلَا يَكُونُ شَيْءٌ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ، أَصْدَقُ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ وَأَحْسَنُ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلُّ بِدْعَةٌ ضَلَالَةٌ ، وَخَيْرُ مَا أُلْقِيَ فِي الْقَلْبِ الْيَقِينُ ، وَخَيْرُ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ ، وَخَيْرُ الْعِلْمِ مَا نَفَعَ ، وَخَيْرُ الْهُدَى مَا اتُّبِعَ ، وَمَا قَلَّ وَكَفَى خَيْرٌ مِمَّا كَثُرَ وَأَلْهَى ، وَإِنَّمَا يَصِيرُ أَحَدُكُمْ إِلَى مَوْضِعِ أَرْبَعِ أَذْرُعٍ ; فَلَا تُمِلُّوا النَّاسَ وَلَا تُسَلِّمُوهُمْ ، إِنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ نَشَاطًا وَإِقْبَالًا ، أَلَا وَإِنَّ لَهَا سَآمَةً وَإِدْبَارًا ، وَشَرُّ الرَّوَايَا رَوَايَا الْكَذِبِ . أَلَا وَإِنَّ الْكَذِبَ يَقُودُ إِلَى الْفَجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَقُودُ إِلَى النَّارِ ، أَلَا وَعَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ وَإِنَّ الصِّدْقَ يَقُودُ إِلَى الْبِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَقُودُ إِلَى الْجَنَّةِ وَاعْتَبِرُوا ذَلِكَ إِنَّهُمَا إِلْفَانِ اِلْتَقَيَا . يُقَالُ لِلصَّادِقِ : صَدَقَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا ، وَلَا يَزَالُ الْكَاذِبُ يَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ كَذَّابًا أَلَا وَإِنَّ الْكَذِبَ لَا يَصْلُحُ إِلَّا فِي الْجِدِّ وَلَا هَزْلَ وَلَا أَنْ يَعِدَ الرَّجُلُ مِنْكُمْ صَبِيَّهُ ثُمَّ لَا يُنْجِزُ لَهُ . أَلَا وَلَا تَسْأَلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ ; فَإِنَّهُمْ قَدْ طَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ ، وَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ ، وَابْتَدَعُوا فِي دِينِهِمْ ، فَإِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ سَائِلِيهِمْ ، فَمَا وَافَقَ كِتَابَكُمْ فَخُذُوا ، وَمَا خَالَفَكُمْ فَاهْدُوا عَنْهُ وَاسْكُتُوا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ مُنْقَطِعٍ ، وَرِجَالُ إِسْنَادِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” جو چیز آنے والی ہو ، وہ قریب ہے ، دور وہ چیز ہوتی ہے ، جو آنے والی نہ ہو ، کسی شخص کی جلدی کی خواہش کی وجہ سے ، اللہ تعالیٰ جلدی نہیں کرتا ، ہوتا وہ ہے جو اللہ چاہتا ہے ، وہ نہیں ہوتا ، جو لوگ چاہتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ایک معاملے کا ارادہ کرتا ہے ، لوگ دوسرے معاملے کا ارادہ کرتے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے ، وہ ہوتا ہے ، اگرچہ لوگ اسے دور قرار دے رہے ہوں ، اللہ تعالیٰ جسے دور کر دے اسے کوئی قریب کرنے والا نہیں ہے ، اور اللہ تعالیٰ جسے قریب کر دے ، اُسے کوئی دور کرنے والا نہیں ہے ، ہر چیز اللہ کے حکم سے ہوتی ہے سب سے زیادہ سچی بات ، اللہ کی کتاب ہے ، اور سب سے زیادہ اچھی ہدایت ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت ہے ، سب سے زیادہ برے اُمور نئے پیدا شدہ ہیں ، اور ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے ، دل میں جو کچھ ڈالا جاتا ہے ، اس میں سب سے بہتر چیزیں یقین ہے ، اور سب سے بہتر خوشحالی ، نفس کی خوشحالی ہے ، اور سب سے بہتر علم وہ ہے ، جو نفع دے اور سب سے بہتر ہدایت وہ ہے ، جس کی پیروی کی جائے ، جو چیز تھوڑی ہو لیکن کفایت کر جائے ، وہ اُس سے زیادہ بہتر ہے ، جو زیادہ ہو اور غافل کر دے ، تم میں سے ہر ایک کی آخری منزل چار گز کی جگہ ہے ، تو تم لوگوں کو اُکتاہٹ اور بیزاری کا شکار نہ کرو ، ہر انسان کبھی خوش اور متوجہ ہوتا ہے ، اور کبھی اُکتایا ہوا اور عدم توجہ کا شکار ہوتا ہے ، اور سب سے بری چیز جھوٹ ہے ، خبردار ! جھوٹ ، گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ ، جہنم کی طرف لے جاتا ہے ، تم پر لازم ہے کہ سچ کو اختیار کرو ! کیونکہ سیچ ، نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی ، جنت کی طرف لے جاتی ہے ، تم اس سے نصیحت حاصل کرو ، کیونکہ یہ دو ایسی چیزیں ہیں ، جو ایک دوسرے سے ملتی ہیں ، سچے شخص سے کہا: جائے گا : اس نے سچ کہا: ہے ، یہاں تک کہ اُسے سچے کے طور پر نوٹ کر لیا جائے گا ، اور جھوٹا شخص مسلسل جھوٹ بولتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ اُسے جھوٹے کے طور پر نوٹ کر لیا جاتا ہے ، خبردار ! سنجیدگی یا مذاق ، کسی بھی صورت میں جھوٹ بولنا جائز نہیں ہے ، اور یہ بھی نہیں ہونا چاہئے کہ کوئی شخص اپنے بچے کے ساتھ کوئی وعدہ کرے ، اور پھر اسے پورا نہ کرے ، اور تم اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں دریافت نہ کرو ، کیونکہ ان کی مدت طویل ہو چکی ہے اور ان کے دل سخت ہو چکے ہیں اور انہوں نے اپنے دین میں نئی چیزیں اختیار کر لی ہوئی ہیں ، اگر تم نے ضرور اُن سے کچھ پوچھنا ہو ، تو جو چیز تمہاری کتاب کے مطابق ہو ، سے حاصل کر لو اور جو اس کے برخلاف ہو ، اُس سے لاتعلق ہو جاؤ اور خاموش رہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے منقطع سند کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کی سند کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17736
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8523)»