حدیث نمبر: 17727
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يُشَرِّفُونَ الْمُتْرَفِينَ ، وَيَسْتَخِفُّونَ بِالْعَابِدِينَ ، وَيَعْمَلُونَ بِالْقُرْآنِ مَا وَافَقَ أَهْوَاءَهُمْ ، وَمَا خَالَفَ أَهْوَاءَهُمْ تَرَكُوهُ ، فَعِنْدَ ذَلِكَ يُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ ، وَيَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ ، يَسْعَوْنَ فِيمَا يُدْرَكُ بِغَيْرِ شَيْءٍ ، مِنَ الْقَدَرِ الْمَقْدُورِ ، وَالْأَجَلِ الْمَكْتُوبِ ، وَالرِّزْقِ الْمَقْسُومِ ، وَلَا يَسْعَوْنَ فِيمَا لَا يُدْرَكُ إِلَّا بِالسَّعْيِ مِنَ الْجَزَاءِ الْمَوْفُورِ ، وَالسَّعْيِ الْمَشْكُورِ ، وَالتِّجَارَةِ الَّتِي لَا تَبُورُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ الرَّفَّا ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں کا کیا معاملہ ہے ؟ کہ وہ مالداروں کی طرف رغبت رکھتے ہیں اور عبادت گزاروں کو کمتر سمجھتے ہیں ، وہ قرآن کے اس حصے پر عمل کرتے ہیں ، جو ان کی خواہشات کے مطابق ہوتا ہے اور اس حصے کو چھوڑ دیتے ہیں ، جو ان کی خواہشات کے برخلاف ہوتا ہے ، ایسی صورتحال میں وہ کتاب کے کچھ حصے پر ایمان رکھتے ہیں اور کچھ حصے کا انکار کرتے ہیں ، وہ ایسی چیز کے بارے میں کوشش کرتے ہیں ، جسے کوشش کے بغیر پایا جا سکتا ہے ، جس کا تعلق طے شدہ تقدیر ، مقرر شدہ مدت ، تقسیم شدہ رزق کے ساتھ ہے ، وہ ایسی چیز کے بارے میں کوشش نہیں کرتے ہیں ، جو صرف کوشش کے ذریعے حاصل ہو سکتی ہے ، جس کا تعلق بھرپور جزاء ، قبول کی جانے والی کوشش اور ایسی تجارت کے ساتھ ہے ، جو خسارے والی نہ ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن یزید رفاء ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17727
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف