مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي الْمَوَاعِظِ . باب: مواعظ کا مزید بیان
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ مَعَهُ بِوَصِيَّةٍ ، ثُمَّ الْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ : " إِنَّ أَهْلَ بَيْتِي هَؤُلَاءِ يَرَوْنَ أَنَّهُمْ أَوْلَى النَّاسِ بِي ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ ، إِنَّ أَوْلِيَائِي مِنْكُمُ الْمُتَّقُونَ ، مَنْ كَانُوا ، وَحَيْثُ كَانُوا . اللَّهُمَّ إِنِّي لَا أُحِلُّ لَهُمْ فَسَادَ مَا أَصْلَحْتَ ، وَايْمُ اللَّهِ ، لَتُكْفَأُ أُمَّتِي عَنْ دِينِهَا كَمَا يُكْفَأُ الْإِنَاءُ فِي الْبَطْحَاءِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ چلتے ہوئے تشریف لائے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف رخ کیا اور یہ ارشاد فرمایا : ” میرے گھر والے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ لوگوں میں ، میرے سب سے زیادہ قریب ہیں ، حالانکہ ایسا نہیں ہے ، تم میں سے پرہیزگار لوگ میرے قریبی ساتھی ہیں ، خواہ وہ جو بھی ہوں اور جہاں بھی ہوں ، اے اللہ ! میں اُن کے لئے یہ چیز حلال قرار نہیں دیتا کہ وہ اسے خراب کریں ، جسے تو نے ٹھیک کیا ہے ، اللہ کی قسم ! میری اُمت اپنے دین کے حوالے سے یوں اوندھی ہو جائے گی ، جس طرح میدان میں برتن کو اوندھا کر دیا جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔