حدیث نمبر: 17714
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " افْعَلُوا الْخَيْرَ دَهْرَكُمْ ، وَتَعَرَّضُوا لِنَفَحَاتِ رَحْمَةِ اللَّهِ ، فَإِنَّ لِلَّهِ نَفَحَاتٍ مَنْ رَحِمَتِهِ ، يُصِيبُ بِهَا مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ، وَسَلُوا اللَّهَ أَنْ يَسْتُرَ عَوْرَاتِكُمْ ، وَأَنْ يُؤَمِّنَ رَوْعَاتِكُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عِيسَى بْنِ مُوسَى بْنِ إِيَاسِ بْنِ الْبُكَيْرِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم ہمیشہ بھلائی کرتے رہو اور اپنے پروردگار کی رحمت کے جھونکوں کے درپے رہو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے ، اپنی رحمت کے جھونکے نصیب کرتا ہے ، تم اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرو کہ وہ تمہارے پوشیدہ معاملات کی پردہ پوشی کرے اور تمہیں پریشانیوں سے محفوظ رکھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عیسیٰ بن موسیٰ بن ایاس بن بکیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17714
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (720)»