حدیث نمبر: 17692
عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعُمَرَ : " اجْمَعْ لِي مَنْ هَهُنَا مِنْ قُرَيْشٍ " . فَجَمَعَهُمْ ثُمَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَخْرُجُ إِلَيْهِمْ أَمْ يَدْخُلُونَ ؟ قَالَ : " بَلْ أَخْرُجُ إِلَيْهِمْ " . فَخَرَجَ فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، هَلْ فِيكُمْ غَيْرُكُمْ ؟ " . قَالُوا : لَا . إِلَّا بَنُو أَخَوَاتِنَا ، قَالَ : " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ " . ثُمَّ قَالَ : " يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، اعْلَمُوا أَنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِالنَّبِيِّ الْمُتَّقُونَ ، فَانْظُرُوا لَا يَأْتِي النَّاسُ بِالْأَعْمَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَتَأْتُونَ بِالدُّنْيَا تَحْمِلُونَهَا ، فَأَصُدُّ عَنْكُمْ بِوَجْهِي " . ثُمَّ قَرَأَ : " إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مُرْسَلًا ، وَفِيهِ أَبُو الْحُوَيْرِثِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

حکم بن میناء بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : یہاں قریش کے افراد کو میرے لئے اکٹھا کرو ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو اکٹھا کیا ، پھر انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ ان کے پاس تشریف لے جائیں گے ؟ یا وہ لوگ اندر آ جائیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ میں ان کے پاس جاؤں گا ، پھر آپ باہر تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا : اے قریش کے گروہ ! کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا فرد ہے ، جو تمہارے علاوہ ہو ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! البتہ ہمارا ایک بھانجا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قوم کا بھانجا ، اُن کا ایک فرد ہوتا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے قریش کے گروہ ! تم لوگ یہ بات جان لو ! لوگوں میں سے ، نبی کے سب سے زیادہ قریب ، پرہیزگار لوگ ہیں ، تو تم لوگ اس بات کا جائزہ لو ! کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن لوگ اعمال لے کے آئیں اور تم لوگ دنیا لے کر آؤ ، جسے تم نے اٹھایا ہوا ہو ، اور میں تم سے منہ پھیر لوں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” لوگوں میں سے ، ابراہیم کے سب سے زیادہ قریب وہ ہیں ، جنہوں نے اس کی پیروی کی ، اور یہ نبی ہیں اور ایمان والے ہیں ، اور اللہ تعالیٰ ایمان والوں کا مددگار ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوالحویرث ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک سے زیادہ افراد نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17692
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل و ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1579)»