حدیث نمبر: 17607
وَعَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى بَنِي جُمَحٍ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا زَمْعَةَ الْبَلَوِيَّ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ - بَايَعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَهَا ، وَأَتَى يَوْمًا مَسْجِدَ الْفُسْطَاطِ ، فَقَامَ فِي الرَّحْبَةِ ، وَقَدْ كَانَ بَلَغَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بَعْضُ التَّشْدِيدِ ، فَقَالَ : لَا تُشَدِّدُوا عَلَى النَّاسِ ; فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ سَبْعًا وَتِسْعِينَ نَفْسًا ، فَذَهَبَ إِلَى رَاهِبٍ فَقَالَ : إِنِّي قَتَلْتُ سَبْعًا وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ تَوْبَةٍ ؟ قَالَ : لَا . فَقَتَلَ الرَّاهِبَ . ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى رَاهِبٍ آخَرَ فَقَالَ : إِنِّي قَتَلْتُ ثَمَانِيًا وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ تَوْبَةٍ ؟ قَالَ : لَا . فَقَتَلَهُ . ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى الثَّالِثِ فَقَالَ : إِنِّي قَتَلْتُ تِسْعًا وَتِسْعِينَ نَفْسًا مِنْهُمْ رَاهِبَانِ ، فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ تَوْبَةٍ ؟ فَقَالَ : لَقَدْ عَمِلْتَ شَرًّا ، وَلَئِنْ قُلْتُ : إِنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِغَفُورٍ رَحِيمٍ لَقَدْ كَذَبْتُ ، فَتُبْ إِلَى اللَّهِ . فَقَالَ : أَمَّا أَنَا فَلَا أُفَارِقُكَ بَعْدَ قَوْلِكَ ، فَلَزِمَهُ عَلَى أَنْ لَا يَعْصِيَهُ ، فَكَانَ يَخْدِمُهُ فِي ذَلِكَ ، فَهَلَكَ رَجُلٌ وَالثَّنَاءُ عَلَيْهِ قَبِيحٌ ، فَلَمَّا دُفِنَ قَعَدَ عَلَى قَبْرِهِ فَبَكَى بُكَاءً شَدِيدًا ، ثُمَّ تُوُفِّيَ آخَرُ ، وَالثَّنَاءُ عَلَيْهِ حَسَنٌ ، فَلَمَّا دُفِنَ قَعَدَ عَلَى قَبْرِهِ فَضَحِكَ ضَحِكًا شَدِيدًا فَأَنْكَرَ أَصْحَابُهُ ذَلِكَ فَاجْتَمَعُوا إِلَى رَأْسِهِمْ فَقَالُوا : كَيْفَ يَأْوِي إِلَيْكَ هَذَا قَاتِلُ النُّفُوسِ وَقَدْ صَنَعَ مَا رَأَيْتَ ؟ ! فَوَقَعَ فِي نَفْسِهِ وَأَنْفُسِهِمْ ، فَأَتَى إِلَى صَاحِبِهِمْ مَرَّةً مِنْ ذَلِكَ وَمَعَهُ صَاحِبٌ لَهُ فَكَلَّمَهُ ، فَقَالَ لَهُ : مَا تَأْمُرُنِي ؟ فَقَالَ : اذْهَبْ فَأَوْقِدْ تَنُّورًا ، فَفَعَلَ ثُمَّ أَتَاهُ ، فَأَخْبَرَهُ : أَنْ قَدْ فَعَلَ . فَقَالَ : اذْهَبْ فَأَلْقِ نَفْسَكَ فِيهَا ، فَلَهَا عَنْهُ الرَّاهِبُ ، وَذَهَبَ الْآخَرُ فَأَلْقَى نَفْسَهُ فِي التَّنُّورِ ، ثُمَّ اسْتَفَاقَ الرَّاهِبُ فَقَالَ : إِنِّي لَأَظُنُّ أَنَّ الرَّجُلَ قَدْ أَلْقَى نَفْسَهُ فِي التَّنُّورِ بِقَوْلِي ، فَذَهَبَ فَوَجَدَهُ حَيًّا فِي التَّنُّورِ يَعْرَقُ ، فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَأَخْرَجَهُ مِنَ التَّنُّورِ فَقَالَ : مَا يَنْبَغِي أَنْ تَخْدِمَنِي ، وَلَكِنْ أَنَا أَخْدِمُكَ ، أَخْبِرْنِي عَنْ بُكَائِكَ عَنِ الْمُتَوَفَّى الْأَوَّلِ ، وَعَنْ ضَحِكِكَ عَنِ الْآخَرِ . قَالَ : أَمَّا الْأَوَّلُ فَلَمَّا دُفِنَ رَأَيْتُ مَا يَلْقَى بِهِ مِنَ الشَّرِّ ، فَذَكَرْتُ ذُنُوبِي فَبَكَيْتُ . وَأَمَّا الْآخَرُ فَرَأَيْتُ مَا يَلْقَى بِهِ مِنَ الْخَيْرِ فَضَحِكْتُ . وَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ مِنْ عُظَمَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

ابوقیس ، جو بنو جمح کے غلام ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابوزمعہ بلوی رضی اللہ عنہ کو سنا ہے ، یہ بیعت رضوان میں شرکت کا شرف رکھتے ہیں اور انہوں نے درخت کے نیچے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی ، وہ ایک دن ” فسطاط “ کی مسجد میں تشریف لائے اور صحن میں کھڑے ہو گئے ، انہیں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات پتہ چلی تھی کہ وہ بعض مسائل میں سختی کرتے ہیں ، تو انہوں نے فرمایا : تم لوگوں کو سختی کا شکار نہ کرو ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایک شخص نے بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے 97 افراد کو قتل کر دیا ، پھر وہ ایک راہب کے پاس گیا اور بولا: میں نے 97 افراد کو قتل کیا ہے ، کیا تم میرے لئے توبہ کی گنجائش پاتے ہو ؟ اس راہب نے کہا: جی نہیں ! اس شخص نے اس راہب کو بھی قتل کر دیا ، پھر وہ ایک اور راہب کے پاس گیا اور بولا: میں نے 98 افراد کو قتل کیا ہے ، کیا تم میرے لئے توبہ کی گنجائش پاتے ہو ؟ اس راہب نے بھی یہ جواب دیا : جی نہیں ! اس شخص نے اسے بھی قتل کر دیا ، پھر وہ تیسرے راہب کے پاس گیا اور بولا: میں نے 99 افراد کو قل کیا ہے ، جن میں سے دو راہب بھی تھے ، کیا تم میرے لئے توبہ کی گنجائش پاتے ہو ؟ اس راہب نے کہا: تم نے برا کام کیا ہے ، لیکن اگر میں یہ کہوں کہ اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والا ، رحم کرنے والا نہیں ہے ، تو میری یہ بات غلط ہو گی ، تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو ! اس شخص نے کہا: تمہاری اس بات کے بعد اب میں تم سے جدا نہیں ہوؤں گا ، اس کے بعد وہ اس راہب کے ساتھ رہنے لگا ، اس شرط پر کہ وہ اس کی نافرمانی نہیں کرے گا ، وہ اس کی خدمت کرتا رہا ، یہاں تک کہ ایک دن ایک شخص مر گیا ، اس کی مذمت بیان کی گئی تھی ، جب اس شخص کو دفن کر دیا گیا ، تو وہ ( تائب ہونے والا قاتل شخص ) اس کی قبر پر بیٹھ کبر بہت رویا ، پھر ایک اور شخص کا انتقال ہوا ، اس کی تعریفیں کی گئی تھیں ، جب اس شخص کو دفن کیا گیا ، تو ( تائب ہونے والا قاتل شخص ) اس کی قبر پر بیٹھا اور بہت زیادہ ہنسا ، اس کے ساتھیوں کو اس پر اعتراض ہوا ، وہ لوگ اپنے سربراہ کے پاس اکٹھے ہوئے اور بولے : یہ ( تائب ہونے والا قاتل شخص ) آپ کے پاس کیسے رہ سکتا ہے ؟ جبکہ اس نے کئی لوگوں کو قتل کیا ہوا ہے ، اور اب اس نے جو کچھ کیا ہے ، وہ آپ نے دیکھ لیا ہے ، تو اس راہب کے اور اس کے ساتھیوں کے دل میں اس شخص کے حوالے سے الجھن پیدا ہوئی ، ایک مرتبہ وہ شخص ان کے سربراہ کے پاس آیا ، اس کے ساتھ اس کا ساتھی بھی تھا ، اس نے اس کے ساتھ بات چیت کی ، اس شخص نے راہب سے دریافت کیا : آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ راہب نے کہا: تم جاؤ اور تنور دہکاؤ ! اس شخص نے ایسا ہی کیا ، پھر اس نے آ کر راہب کو اس بارے میں بتایا کہ وہ ایسا کر چکا ہے ، اس راہب نے کہا: تم جاؤ اور خود کو اس تنور میں ڈال دو ! راہب اس شخص کے حوالے سے غافل ہوا ، وہ شخص گیا اور اس نے خود کو تنور میں ڈال دیا ، پھر جب راہب کو یاد آیا ، تو اس نے کہا: میرا خیال ہے ، اس شخص نے میرے کہنے پر ، اپنے آپ کو تنور میں ڈال دیا ہو گا ، پھر وہ راہب گیا ، تو اس نے اس شخص کو پایا کہ وہ تنور میں زندہ موجود ہے ، اور اسے پسینہ آ رہا ہے ، راہب نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے تنور سے باہر نکالا اور بولا: اب یہ مناسب نہیں ہے کہ تم میری خدمت کرو ، بلکہ اب میں تمہاری خدمت کروں گا ، لیکن تم مجھے یہ بتاؤ ! کہ تم پہلے فوت ہونے والے شخص پر روئے کیوں تھے ؟ اور دوسرے والے پر ہنسے کیوں تھے ؟ اس شخص نے بتایا : جہاں تک پہلے فرد کا تعلق ہے ، تو جب اسے دفن کیا گیا تو میں نے دیکھا کہ جو بری صورتحال اس پر ڈالی جا رہی ہے ، تو مجھے اپنے گناہوں کا خیال آ گیا اور میں رونے لگا ، جہاں تک دوسرے فرد کا تعلق ہے ، تو میں نے دیکھا کہ اس پر بھلائی ڈالی جا رہی ہے ، تو میں ہنسنے لگا ، وہ شخص بعد میں بنی اسرائیل کے اکابرین ( یعنی بڑے عبادت گزاروں ) میں ایک شمار ہوا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17607
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (311/22)»