مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التوبة— توبہ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مَغْفِرَةِ اللَّهِ تَعَالَى لِلذُّنُوبِ الْعِظَامِ وَسِعَةِ رَحْمَتِهِ . باب: اللہ تعالیٰٰ کا بڑے گناہوں کی مغفرت کر دینا ، اور اس کی رحمت کی وسعت کا بیان
وَعَنْ أَبِي عَبْدِ رَبٍّ : أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى الْمِنْبَرِ يُحَدِّثُ : أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسُلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ رَجُلًا أَسْرَفَ عَلَى نَفْسِهِ فَلَقِيَ رَجُلًا فَقَالَ : إِنَّ الْآخَرَ قَتَلَ تِسْعًا وَتِسْعِينَ نَفْسًا كُلُّهُمْ ظُلْمًا فَهَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ ؟ قَالَ : لَا . فَقَتَلَهُ . وَأَتَى آخَرَ فَقَالَ : إِنَّ الْآخَرَ قَتَلَ مِائَةَ نَفْسٍ كُلَّهَا ظُلْمًا فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ تَوْبَةٍ ؟ فَقَالَ : إِنْ حَدَّثْتُكَ عَلَى أَنَّ اللَّهَ لَا يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ كَذَبْتُكَ ، هَهُنَا قَوْمٌ يَتَعَبَّدُونَ فَائْتِهِمْ تَعَبَّدِ اللَّهَ مَعَهُمْ . فَتَوَجَّهَ إِلَيْهِمْ ، فَمَاتَ عَلَى ذَلِكَ ، فَاجْتَمَعَتْ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلَائِكَةُ الْعَذَابِ ، فَبَعَثَ اللَّهُ إِلَيْهِمْ مَلَكًا فَقَالَ : قِيسُوا مَا بَيْنَ الْمَكَانَيْنِ فَأَيُّهُمْ أَقْرَبُ فَهُوَ مِنْهُمْ ، فَوَجَدُوهُ أَقْرَبَ إِلَى دَيْرِ التَّوَّابِينَ بِأُنْمُلَةٍ فَغُفِرَ لَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي عَبْدِ رَبٍّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ كَذَلِكَ . ¤ابوعبد رب بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایک شخص نے اپنے اوپر ظلم کیا ( یعنی گناہ کا ارتکاب کیا ) اس کی ملاقات دوسرے شخص سے ہوئی ، تو پہلے شخص نے بتایا کہ اس نے 99 قتل کیے ہیں ، اور وہ سب ظلم کے طور پر کیے ہیں ، تو کیا میرے لئے توبہ کی گنجائش ہے ؟ دوسرے شخص نے جواب دیا : جی نہیں ! پہلے شخص نے اسے بھی قتل کر دیا ، پھر وہ پہلا شخص ایک اور فرد کے پاس آیا ، اس نے بتایا کہ میں نے 100 قتل کیے ہیں اور وہ سب ظلم کے طور پر کیے ہیں ، کیا تم میرے لئے توبہ کی گنجائش پاتے ہو ؟ اس فرد نے کہا: اگر میں تمہیں یہ کہوں کہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول نہیں کرتا ہے ، تو میں تمہیں یہ غلط کہوں گا ، یہاں کچھ لوگ ہیں ، جو عبادت کرتے ہیں ، تو ان کے پاس جاؤ اور ان کے ہمراہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ، وہ شخص ان لوگوں کی طرف جانے کے لئے روانہ ہوا ، راستے میں وہ مر گیا ، رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے اکٹھے ہوئے ( کہ اس کو اپنے قبضے میں لیں ) تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف ایک فرشتہ بھیجا ، اس فرشتے نے یہ کہا: تم دونوں جگہوں کے درمیان والے حصے کو ناپ لو ، یہ دونوں میں سے ، جس کے زیادہ قریب ہو گا ، ان میں سے ایک شمار ہو گا ، تو انہوں نے یہ بات پائی کہ وہ شخص توبہ کرنے والوں کے عبادت خانے کے چند پوروں جتنا زیادہ قریب تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت کر دی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ابوعبد رب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ، یہ روایت امام ابویعلیٰ نے بھی اس کی مانند نقل کی ہے ۔