حدیث نمبر: 17608
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كَانَتْ قَرْيَتَانِ : إِحْدَاهُمَا صَالِحَةٌ ، وَالْأُخْرَى ظَالِمَةٌ ، فَخَرَجَ رَجُلٌ مِنَ الْقَرْيَةِ الظَّالِمَةِ يُرِيدُ الْقَرْيَةَ الصَّالِحَةَ ، فَأَتَاهُ الْمَوْتُ حَيْثُ شَاءَ اللَّهُ ، فَاخْتَصَمَ فِيهِ الْمَلَكُ وَالشَّيْطَانُ ، فَقَالَ الشَّيْطَانُ : وَاللَّهِ ، مَا عَصَانِي قَطُّ ، فَقَالَ الْمَلَكُ : إِنَّهُ خَرَجَ يُرِيدُ التَّوْبَةَ ، فَقُضِيَ بَيْنَهُمَا أَنْ يُنْظَرَ إِلَى أَيِّهِمَا أَقْرَبُ ، فَوَجَدُوهُ أَقْرَبَ إِلَى الْقَرْيَةِ الصَّالِحَةِ بِشِبْرٍ ، فَغُفِرَ لَهُ . ¤ قَالَ مَعْمَرٌ : وَسَمِعْتُ مَنْ يَقُولُ : قَرَّبَ اللَّهُ إِلَيْهِ الْقَرْيَةَ الصَّالِحَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ الَّذِي أَمَرَ وَلَدَهُ : أَنْ يُحْرِقُوهُ إِذَا مَاتَ، فِي بَابِ مَنْ خَافَ مِنْ ذُنُوبِهِ ، فِي أَوَائِلِ كِتَابِ التَّوْبَةِ ، وَتَأْتِي لَهُ طَرِيقٌ عَجِيبَةٌ فِي أَبْوَابِ الشَّفَاعَةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” دو بستیاں تھیں ، ان میں سے ایک نیک تھی اور دوسری ظالم تھی ، ایک شخص نیک بستی کی طرف جانے کے ارادے کے ساتھ ظالم بستی سے نکلا ، جہاں اللہ کو منظور تھا ، وہاں اُسے موت نے آ لیا ، اس کے بارے میں فرشتے اور شیطان کے درمیان جھگڑا ہو گیا ، شیطان نے کہا: اللہ کی قسم ! اس نے کبھی میری نافرمانی نہیں کی ، فرشتے نے کہا: لیکن یہ توبہ کے ارادے سے نکلا تھا ، تو ان دونوں کے درمیان یہ فیصلہ دیا گیا کہ اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ وہ دونوں بستیوں میں سے کون سی بستی کے زیادہ قریب تھا ؟ تو فرشتوں نے یہ بات پائی کے وہ نیک بستی کے ایک بالشت زیادہ قریب تھا ، تو اس شخص کی مغفرت ہو گئی ۔ “ معمر بیان کرتے ہیں : میں نے کسی کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ نے اسے نیک بستی کے قریب کر دیا تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے وہ حدیث گزر چکی ہے ، جس میں یہ مذکور ہے : ” ایک شخص نے اپنی اولاد کو یہ تلقین کی تھی کہ جب وہ مر جائے تو وہ اولاد اسے جلا دے ۔ “ یہ کتاب التوبہ کے آغاز میں ، اس باب میں ذکر ہوئی ہے ، باب : جو شخص اپنے گناہوں سے خوفزدہ ہو ۔ اس روایت کا ایک اور عجیب طریق شفاعت سے متعلق ابواب میں آئے گا ، اگر اللہ نے چاہا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17608
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8851)»