حدیث نمبر: 17605
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - جَلَّ ذِكْرُهُ - لَا يَتَعَاظَمُهُ ذَنْبٌ غَفَرَهُ : إِنَّ رَجُلًا كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ قَتَلَ ثَمَانِيًا وَتِسْعِينَ نَفْسًا ، فَأَتَى رَاهِبًا فَقَالَ : إِنِّي قَتَلْتُ ثَمَانِيًا وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ تَوْبَةٍ ؟ فَقَالَ لَهُ : قَدْ أَسْرَفْتَ ، فَقَامَ إِلَيْهِ فَقَتَلَهُ . ثُمَّ أَتَى رَاهِبًا آخَرَ فَقَالَ : إِنِّي قَتَلْتُ تِسْعًا وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ تَوْبَةٍ ؟ قَالَ : لَا . قَدْ أَسْرَفْتَ ، فَقَامَ إِلَيْهِ فَقَتَلَهُ . ثُمَّ أَتَى رَاهِبًا آخَرَ قَالَ : إِنِّي قَتَلْتُ مِائَةَ نَفْسٍ هَلْ تَجِدُ لِي مِنْ تَوْبَةٍ ؟ فَقَالَ : قَدْ أَسْرَفْتَ ، وَمَا أَدْرِي وَلَكِنْ هَهُنَا قَرْيَتَانِ : قَرْيَةٌ يُقَالُ لَهَا : نَصْرَةُ ، وَالْأُخْرَى يُقَالُ لَهَا : كَفْرَةُ ، فَأَمَّا نَصْرَةُ فَيَعْمَلُونَ عَمَلَ الْجَنَّةِ ، لَا يَثْبُتُ فِيهَا غَيْرُهُمْ ، وَأَمَّا كَفْرَةُ فَيَعْمَلُونَ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ ، لَا يَثْبُتُ فِيهَا غَيْرُهُمْ ، فَانْطَلِقْ إِلَى أَهْلِ نَصْرَةَ ، فَإِنْ ثَبَتَّ فِيهَا ، وَعَمِلْتَ مِثْلَ أَهْلِهَا ، فَلَا تَشُكُّ فِي تَوْبَتِكَ . فَانْطَلَقَ يُرِيدُهَا حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ الْقَرْيَتَيْنِ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ ، فَسَأَلَتِ الْمَلَائِكَةُ رَبَّهَا عَنْهُ ، فَقَالَ : انْظُرُوا أَيُّ الْقَرْيَتَيْنِ كَانَ أَقْرَبَ فَاكْتُبُوهُ مِنْ أَهْلِهَا . فَوَجَدُوهُ أَقْرَبَ إِلَى نَصْرَةَ بِقِيدِ أُنْمُلَةٍ ، فَكُتِبَ مِنْ أَهْلِهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَوَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے لیے کسی بھی گناہ کی مغفرت کر دینا بڑی بات نہیں ہے ، تم سے پہلے زمانے میں ایک شخص تھا جس نے 98 افراد کو قتل کیا تھا ، وہ ایک راہب کے پاس گیا اور بولا: میں نے 98 افراد کو قتل کیا ہے ، کیا تم میرے لئے توبہ کی گنجائش پاتے ہو ؟ اس راہب نے اس سے کہا: تم نے بڑی زیادتی کی ( یعنی تمہارے لئے توبہ کی گنجائش نہیں ہے ) وہ شخص اُٹھ کر راہب کے پاس گیا اور اسے بھی قتل کر دیا ، پھر وہ ایک اور راہب کے پاس گیا اور بولا: میں نے 99 افراد کو قتل کیا ہے ، کیا تم تم میرے لئے توبہ کی گنجائش پاتے ہو ؟ اس راہب نے کہا: جی نہیں ! تم نے بڑی زیادتی کی ہے ، وہ شخص اُٹھ کر اس کی طرف بڑھا اور اسے بھی قتل کر دیا ، پھر وہ ایک اور راہب کے پاس گیا اور بولا: میں نے 100 افراد کو قتل کیا ہے ، کیا تم میرے لئے توبہ کی گنجائش پاتے ہو ؟ اس راہب نے کہا: تم نے بڑی زیادتی کی ہے ، مجھے نہیں معلوم ( کہ اس کا حکم کیا ہو گا ؟ ) البتہ یہ ہے کہ یہاں دو بستیاں ہیں ، ایک بستی کا نام ” بصرہ “ ہے اور دوسری بستی کا نام ” کفرہ “ ہے ، جہاں تک ” بصرہ“ نامی بستی کا تعلق ہے ، تو وہاں کے رہنے والے لوگ اہل جنت کا سا عمل کرتے ہیں اور اس بستی میں ان کے علاوہ اور کوئی نہیں رہ سکتا جہاں تک ” کفرہ “ نامی بستی کا تعلق ہے ، تو وہاں کے لوگ اہل جہنم کے سے عمل کرتے ہیں ، اور وہاں ان کے علاوہ کوئی اور نہیں رہ سکتا ، تو تم ” بصرہ “ کے رہنے والوں کی طرف چلے جاؤ ، اگر تم وہاں ٹھہر گئے ، اور وہاں کے لوگوں کی مانند عمل کرنے لگے ، تو تمہیں اپنی توبہ کے بارے میں کوئی شک نہیں ہو گا ، وہ شخص اس بستی کی طرف جانے کے لئے روانہ ہوا ، جب وہ دونوں بستیوں کے درمیان پہنچا ، تو اُسے موت نے آ لیا ، فرشتوں نے اپنے پروردگار سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا : تو پروردگار نے فرمایا : تم اس بات کا جائزہ لو کہ وہ دونوں بستیوں میں سے کون سی بستی کے زیادہ قریب ہے ؟ اور پھر اسے اس بستی والوں میں نوٹ کر لینا ، تو فرشتوں نے اس شخص کو پایا کہ وہ چند پوروں کے فاصلے جتنا ” بصرہ “ نامی بستی کے زیادہ قریب تھا ، تو اس کا شمار اُس بستی والوں میں کیا گیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عبدالرحمن بن زیاد بن انعم کا معاملہ مختلف ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17605
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف