مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التوبة— توبہ کے بارے میں روایات
بَابُ تَمَنِّي الْمَوْتِ لِمَنْ وَثِقَ بِعَمَلِهِ ، وَتَمَنِّيهِ عِنْدَ فَسَادِ الزَّمَانِ . باب: جس آدمی کو اپنے عمل پر بھروسہ ہو ، اس کا موت کی آرزو کرنا نیز زمانے کی خرابی کے وقت ، موت کی آرزو کرنا
وَعَنْ أَبِي الْمُعَلَّى قَالَ : قَالَ الْحَكَمُ الْغِفَارِيُّ : يَا طَاعُونُ ، خُذْنِي إِلَيْكَ . فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : بِمَ تَقُولُ هَذَا ؟ وَقَدْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَلَا لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ " ؟ . قَالَ : قَدْ سَمِعْتُ مَا سَمِعْتُمْ ، وَلَكِنِّي أُبَادِرُ سِتًّا : بَيْعَ الْحُكْمِ ، وَكَثْرَةَ الشُّرَطِ ، وَإِمَارَةَ الصِّبْيَانِ ، وَسَفْكَ الدِّمَاءِ ، وَقَطِيعَةَ الرَّحِمِ ، وَنَشْوٌ يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ ، يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو الْمُعَلَّى لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ابومعلیٰ بیان کرتے ہیں : سیدنا حکم غفاری رضی اللہ عنہ نے کہا: اے طاعون ! تو مجھے اپنی گرفت میں لے ، حاضرین میں سے ایک صاحب نے ان سے کہا: آپ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں ؟ کیا آپ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے : ” خبردار ! تم میں سے کوئی ایک موت کی آرزو ہرگز نہ کرے ۔ “ تو سیدنا حکم غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے بھی اسی طرح سنا ہے ، جس طرح تم لوگوں نے سنا ہے ، لیکن میں چھ قسم کی چیزوں کے سامنے آنے سے پہلے ، دنیا سے رخصت ہو جانا چاہتا ہوں ، عدالتی فیصلے کو فروخت کیا جانا ، شرطوں کا زیادہ لگنا ، بچوں کی حکومت ، خون بہایا جانا ، رشتہ داری کے حقوق کو پامال کیا جانا ، اور آخری زمانے میں ایسے لوگوں کا سامنے آنا ، جو قرآن کو گائیکی بنا لیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ابومعلیٰ نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔