کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جس آدمی کو اپنے عمل پر بھروسہ ہو ، اس کا موت کی آرزو کرنا نیز زمانے کی خرابی کے وقت ، موت کی آرزو کرنا
حدیث نمبر: 17569
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَتَمَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ إِلَّا أَنْ يَثِقَ بِعَمَلِهِ ; فَإِنْ رَأَيْتُمْ فِي الْإِسْلَامِ سِتَّ خِصَالٍ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ ، وَإِنْ كَانَتْ نَفْسُكَ فِي يَدِكَ فَأَرْسِلْهَا : إِضَاعَةَ الدَّمِ ، وَإِمَارَةَ الصِّبْيَانِ ، وَكَثْرَةَ الشُّرَطِ ، وَإِمَارَةَ السُّفَهَاءِ ، وَبَيْعَ الْحُكْمِ ، وَنَشْوٌ يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم میں سے کوئی بھی شخص موت کی آرزو نہ کرے ، البتہ اگر اسے اپنے عمل پر بھروسہ ہو ، تو حکم مختلف ہے ، جب تم اسلام میں چھے قسم کی چیزیں دیکھو ، تو تم موت کی آرزو کرنا اور تمہاری جان تمہارے ہاتھ میں ہوں ، تو تم اسے چھوڑ دینا ، خون کو ضائع کیا جانا ، بچوں کی حکومت ، شرطیں زیادہ لگانا ، بیوقوفوں کی حکمرانی ، عدالتی فیصلے کو فروخت کرنا ، اور ایسے کم عمر لوگوں کا سامنے آنا ، جو قرآن کو گا کر پڑھیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17569
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 17570
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ ، وَلَا يَدْعُو بِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُ ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ قَدْ وَثِقَ بِعَمَلِهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے کوئی ایک موت کی آرزو ہرگز نہ کرے ، اور نہ ہی اس کے آنے سے پہلے ، اس کے بارے میں دعا کرے ، البتہ اگر اسے اپنے عمل پر بھروسہ ہو ، تو حکم مختلف ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ مدلس ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17570
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند 316/2»
حدیث نمبر: 17571
وَعَنْ أَبِي الْمُعَلَّى قَالَ : قَالَ الْحَكَمُ الْغِفَارِيُّ : يَا طَاعُونُ ، خُذْنِي إِلَيْكَ . فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : بِمَ تَقُولُ هَذَا ؟ وَقَدْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَلَا لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ " ؟ . قَالَ : قَدْ سَمِعْتُ مَا سَمِعْتُمْ ، وَلَكِنِّي أُبَادِرُ سِتًّا : بَيْعَ الْحُكْمِ ، وَكَثْرَةَ الشُّرَطِ ، وَإِمَارَةَ الصِّبْيَانِ ، وَسَفْكَ الدِّمَاءِ ، وَقَطِيعَةَ الرَّحِمِ ، وَنَشْوٌ يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ ، يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو الْمُعَلَّى لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابومعلیٰ بیان کرتے ہیں : سیدنا حکم غفاری رضی اللہ عنہ نے کہا: اے طاعون ! تو مجھے اپنی گرفت میں لے ، حاضرین میں سے ایک صاحب نے ان سے کہا: آپ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں ؟ کیا آپ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے : ” خبردار ! تم میں سے کوئی ایک موت کی آرزو ہرگز نہ کرے ۔ “ تو سیدنا حکم غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے بھی اسی طرح سنا ہے ، جس طرح تم لوگوں نے سنا ہے ، لیکن میں چھ قسم کی چیزوں کے سامنے آنے سے پہلے ، دنیا سے رخصت ہو جانا چاہتا ہوں ، عدالتی فیصلے کو فروخت کیا جانا ، شرطوں کا زیادہ لگنا ، بچوں کی حکومت ، خون بہایا جانا ، رشتہ داری کے حقوق کو پامال کیا جانا ، اور آخری زمانے میں ایسے لوگوں کا سامنے آنا ، جو قرآن کو گائیکی بنا لیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ابومعلیٰ نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17571
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3162)»