مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التوبة— توبہ کے بارے میں روایات
بَابُ تَمَنِّي الْمَوْتِ لِمَنْ وَثِقَ بِعَمَلِهِ ، وَتَمَنِّيهِ عِنْدَ فَسَادِ الزَّمَانِ . باب: جس آدمی کو اپنے عمل پر بھروسہ ہو ، اس کا موت کی آرزو کرنا نیز زمانے کی خرابی کے وقت ، موت کی آرزو کرنا
حدیث نمبر: 17570
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ ، وَلَا يَدْعُو بِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُ ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ قَدْ وَثِقَ بِعَمَلِهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے کوئی ایک موت کی آرزو ہرگز نہ کرے ، اور نہ ہی اس کے آنے سے پہلے ، اس کے بارے میں دعا کرے ، البتہ اگر اسے اپنے عمل پر بھروسہ ہو ، تو حکم مختلف ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ مدلس ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔