حدیث نمبر: 17572
عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ : أَتَيْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فِي مَرَضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ فَقَالَ لِي : يَا ابْنَ أَخِي ، مَا أَعْمَلَكَ إِلَى هَذَا الْبَلَدِ ؟ وَمَا جَاءَ بِكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : لَا إِلَّا صِلَةٌ بَيْنَكَ وَبَيْنَ وَالِدِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ . فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : بِئْسَ سَاعَةُ الْكَذِبِ هَذِهِ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ أَوْ أَرْبَعًا - شَكَّ سَهْلٌ - يُحْسِنُ فِيهَا الرُّكُوعَ وَالْخُشُوعَ ، ثُمَّ اسْتَغْفَرَ اللَّهَ غَفَرَ لَهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا یوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کا انتقال ، جس بیماری کے دوران ہوا ، اس کے دوران میں ان سے ملنے کے لیے گیا ، انہوں نے مجھ سے دریافت کیا : اے میرے بھتیجے ! تمہیں اس شہر میں کیا کام ہے ، اور تم یہاں کیوں آئے ہو ؟ راوی کہتے ہیں : میں نے جواب دیا : ایسی کوئی بات نہیں ہے ، میں صرف اس تعلق کی وجہ سے یہاں آیا ہوں ، جو آپ کے اور میرے والد سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے درمیان تھا ، سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ گھڑی ( یعنی وہ گھڑی ، جب میں دنیا سے رخصت ہونے والا ہوں ) جھوٹ بولنے کے لیے بری گھڑی ہے ( یعنی ایسے وقت میں جھوٹ نہیں بولا: جا سکتا اور میں تمہیں ، جو بات بیان کرنے لگا ہوں ، وہ بالکل سچ ہے ) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرے ، پھر وہ کھڑا ہو کر دو ، یا چار رکعات ادا کرے ( یہ شک سہیل نامی راوی کو ہے ) اور اس دوران اچھے طریقے سے رکوع اور خشوع کرے ، پھر وہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17572
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (450/6)»