مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التوبة— توبہ کے بارے میں روایات
بَابُ تَمَنِّي الْمَوْتِ لِمَنْ وَثِقَ بِعَمَلِهِ ، وَتَمَنِّيهِ عِنْدَ فَسَادِ الزَّمَانِ . باب: جس آدمی کو اپنے عمل پر بھروسہ ہو ، اس کا موت کی آرزو کرنا نیز زمانے کی خرابی کے وقت ، موت کی آرزو کرنا
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَتَمَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ إِلَّا أَنْ يَثِقَ بِعَمَلِهِ ; فَإِنْ رَأَيْتُمْ فِي الْإِسْلَامِ سِتَّ خِصَالٍ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ ، وَإِنْ كَانَتْ نَفْسُكَ فِي يَدِكَ فَأَرْسِلْهَا : إِضَاعَةَ الدَّمِ ، وَإِمَارَةَ الصِّبْيَانِ ، وَكَثْرَةَ الشُّرَطِ ، وَإِمَارَةَ السُّفَهَاءِ ، وَبَيْعَ الْحُكْمِ ، وَنَشْوٌ يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم میں سے کوئی بھی شخص موت کی آرزو نہ کرے ، البتہ اگر اسے اپنے عمل پر بھروسہ ہو ، تو حکم مختلف ہے ، جب تم اسلام میں چھے قسم کی چیزیں دیکھو ، تو تم موت کی آرزو کرنا اور تمہاری جان تمہارے ہاتھ میں ہوں ، تو تم اسے چھوڑ دینا ، خون کو ضائع کیا جانا ، بچوں کی حکومت ، شرطیں زیادہ لگانا ، بیوقوفوں کی حکمرانی ، عدالتی فیصلے کو فروخت کرنا ، اور ایسے کم عمر لوگوں کا سامنے آنا ، جو قرآن کو گا کر پڑھیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔