حدیث نمبر: 17554
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ : أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي عُذْرَةَ ثَلَاثَةً أَتَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْلَمُوا ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ يَكْفِينِيهِمْ ؟ " . قَالَ طَلْحَةُ : أَنَا ، قَالَ : فَكَانُوا عِنْدَ طَلْحَةَ ، فَبَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْثًا ، فَخَرَجَ فِيهِ أَحَدُهُمْ فَاسْتُشْهِدَ ، ثُمَّ بَعَثَ بَعْثًا آخَرَ فَخَرَجَ فِيهِ آخَرُ فَاسْتُشْهِدَ ، ثُمَّ مَاتَ الثَّالِثُ عَلَى فِرَاشِهِ . قَالَ طَلْحَةُ : فَرَأَيْتُ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةَ الَّذِينَ كَانُوا عِنْدِي فِي الْجَنَّةِ ، فَرَأَيْتُ الْمَيِّتَ عَلَى فِرَاشِهِ أَمَامَهُمْ ، وَرَأَيْتُ الَّذِي اسْتُشْهِدَ أَخِيرًا يَلِيهِ ، وَرَأَيْتُ الَّذِي اسْتُشْهِدَ أَوَّلَهُمْ آخِرَهُمْ . قَالَ : فَدَخَلَنِي مِنْ ذَلِكَ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، قَالَ : فَقَالَ : " وَمَا أَنْكَرْتَ مِنْ ذَلِكَ ؟ لَيْسَ أَحَدٌ أَفْضَلَ عِنْدَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - مِنْ مُؤْمِنٍ يُعَمَّرُ فِي الْإِسْلَامِ لِتَسْبِيحِهِ ، وَتَكْبِيرِهِ ، وَتَهْلِيلِهِ " . قُلْتُ : لِطَلْحَةَ حَدِيثٌ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ فِي التَّعْبِيرِ غَيْرَ هَذَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ فَوَصَلَ بَعْضَهُ ، وَأَرْسَلَ أَوَّلَهُ ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ فَقَالَا : عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ طَلْحَةَ ، فَوَصَلَاهُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بنو عذرہ سے تعلق رکھنے والے تین افراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کون شخص ان کے بارے میں میری کفایت کرے گا ؟ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں وہ لوگ سیدنا طلحہ کے ہاں ٹھہر گئے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگی مہم روانہ کی ، ان میں سے ایک شخص اس میں شریک ہوا اور اس نے جام شہادت نوش کر لیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور جنگی مہم روانہ کی ، تو ان میں سے دوسرا شخص اس میں شریک ہوا اور اس نے بھی جام شہادت نوش کر لیا ، ان میں سے تیسرا فرد بستر مرگ پر فوت ہوا ۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ان تینوں افراد کو خواب میں دیکھا کہ وہ جنت میں میرے پاس موجود ہیں ، میں نے دیکھا کہ جو شخص بستر مرگ پر فوت ہوا تھا ، وہ اُن سے آگے ہے اور اس کے بعد اس شخص کا مرتبہ ہے ، جو بعد میں شہید ہوا تھا ، اور جو سب سے پہلے شہید ہوا تھا ، اس کا مرتبہ سب سے بعد میں تھا ، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اس حوالے سے الجھن کا شکار ہوا ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہیں اس پر کس حوالے سے حیرانگی ہے ؟ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی بھی فرد ، اس مؤمن سے زیادہ فضیلت نہیں رکھتا ، جسے مسلمان ہونے کے عالم میں زندگی دی گئی ہو ، تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی پاکی ، اس کی کبریائی اور اس کی معبودیت بیان کرے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کو امام ابن ماجہ نے ” کتاب التعبیر “ میں نقل کیا ہے ، اور وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، انہوں نے اس کے کچھ حصے کو ” موصول “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے اور اس کے ابتدائی حصے کو ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، ان دونوں کا یہ کہنا ہے ، یہ عبداللہ بن شداد کے حوالے سے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، تو ان دونوں نے اسے اس کی مانند موصول روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اور ان کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17554
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3590) اخرجه ابو يعلى فى المسند (634) اخرجه احمد فى المسند (1401)»