حدیث نمبر: 17555
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - رَفَعَ الْحَدِيثَ قَالَ : " الْمَوْلُودُ حَتَّى يَبْلُغَ الْحِنْثَ مَا عَمِلَ مِنْ حَسَنَةٍ كُتِبَتْ لِوَالِدِهِ - أَوْ لِوَالِدَيْهِ - وَمَا عَمِلَ مِنْ سَيِّئَةٍ لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْهِ وَلَا عَلَى وَالِدَيْهِ ، فَإِذَا بَلَغَ الْحِنْثَ جَرَى عَلَيْهِ الْقَلَمُ ، أُمِرَ الْمَلَكَانِ اللَّذَانِ مَعَهُ أَنْ يَحْفَظَا ، وَأَنْ يُشَدِّدَا ، فَإِذَا بَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً فِي الْإِسْلَامِ أَمَّنَهُ اللَّهُ مِنَ الْبَلَايَا الثَّلَاثَةِ : الْجُنُونِ ، وَالْجُذَامِ ، وَالْبَرَصِ ، فَإِذَا بَلَغَ الْخَمْسِينَ خَفَّفَ اللَّهُ مِنْ حِسَابِهِ ، فَإِذَا بَلَغَ السِّتِّينَ رَزَقَهُ اللَّهُ الْإِنَابَةَ إِلَيْهِ بِمَا يُحِبُّ ، فَإِذَا بَلَغَ السَّبْعِينَ أَحَبَّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ ، فَإِذَا بَلَغَ الثَّمَانِينَ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ حَسَنَاتِهِ ، وَتَجَاوَزَ عَنْ سَيِّئَاتِهِ ، فَإِذَا بَلَغَ التِّسْعِينَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ ، وَشَفَّعَهُ فِي أَهْلِ بَيْتِهِ ، وَكَانَ أَسِيرَ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ ، فَإِذَا بَلَغَ أَرْذَلَ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ بَعْدَ عَلَمٍ شَيْئًا ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ مِثْلَ مَا كَانَ يَعْمَلُ فِي صِحَّتِهِ مِنَ الْخَيْرِ ، فَإِذَا عَمِلَ سَيِّئَةً لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْهِ " . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ” مرفوع “ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بچہ جب تک بالغ نہیں ہو جاتا ، وہ جو بھی اچھائی کرتا ہے ، اس کا اجر اس کے باپ ۔ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ۔ اس کے ماں باپ کے لیے نوٹ کیا جاتا ہے ، اور بچہ جو بھی برائی کرتا ہے ، وہ برائی نہ اُس بچے کے خلاف نوٹ کی جاتی ہے ، نہ اس کے ماں باپ کے خلاف نوٹ کی جاتی ہے ، جب وہ بچہ بالغ ہو جاتا ہے ، تو اس پر قلم کے احکام جاری ہوتے ہیں ، اور اس کے ساتھ موجود محافظ فرشتوں کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ وہ حفاظت کریں اور سختی سے کام لیں ، پھر جب وہ فرد مسلمان ہونے کے عالم میں چالیس سال کی عمر تک پہنچ جاتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اسے تین قسم کی آزمائشوں سے محفوظ کر دیتا ہے ، جنون ، جذام اور برص ، جب وہ پچاس سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے حساب میں تخفیف کر دیتا ہے ، جب وہ 60 سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی طرف رجوع نصیب کرتا ہے ، جیسے وہ پسند کرتا ہے ، جب وہ ستر سال کا ہو جاتا ہے تو آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں ، جب وہ اسی سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیاں نوٹ کرواتا ہے اور اس کی برائیوں سے درگزر کرتا ہے ، جب وہ 90 سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گذشتہ اور آئندہ گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے ، اور اسے اپنے اہل خانہ کے بارے میں شفاعت نصیب کرتا ہے ، اور وہ زمین میں اللہ تعالیٰ کا قیدی ہوتا ہے ، اور جب وہ رذیل ترین عمر تک پہنچ جاتا ہے ، تاکہ وہ علم ہو جانے کے بعد لاعلم ہو جائے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کی مانند اجر و ثواب نوٹ کرتا ہے ، جو بھلائی کا عمل وہ تندرستی کے زمانے میں کیا کرتا تھا ، لیکن وہ جو برائی کرتا تھا ، اس کو نوٹ نہیں کیا جاتا ۔ “

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17555
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (3678)»