مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التوبة— توبہ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي طُولِ عُمُرِ الْمُؤْمِنِ ، وَالنَّهْيِ عَنْ تَمَنِّيهِ الْمَوْتَ . باب: مومن کی عمر طویل ہونے اور اس کے موت کی آرزو کرنے کی ممانعت کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 17542
وَفِي رِوَايَةٍ : " إِنْ كُنْتَ مُسِيئًا ; فَإِنْ تُؤَخِّرْ تُسْتَعْتَبْ مِنْ إِسَاءَتِكَ خَيْرٌ لَكَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ هِنْدِ بِنْتِ الْحَارِثِ ; فَإِنْ كَانَتْ هِيَ الْقُرَشِيَّةُ أَوِ الْفِرَاسِيَّةُ فَقَدِ احْتُجَّ بِهَا فِي الصَّحِيحِ ، وَإِنْ كَانَتِ الْخَثْعَمِيَّةَ فَلَمْ أَعْرِفْهَا . ¤محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اگر آپ برائی کرنے والے ہوں ، آپ کو مہلت دے دی جائے ، اور آپ اپنی برائی سے رجوع کر لیں ، تو یہ آپ کے حق میں زیادہ بہتر ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ہند بنت حارث نامی خاتون کا معاملہ مختلف ہے ، اگر تو یہ ” قریشیہ “ یا ” فراسیہ “ ہے ، تو ” صحیح “ میں اس سے استدلال کیا گیا ہے ، اور اگر یہ ” خثعمیہ “ ہے ، تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔