مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التوبة— توبہ کے بارے میں روایات
بَابُ التَّقَرُّبِ بِالتَّوْبَةِ . باب: توبہ کے ذریعے قرب حاصل کرنا
وَعَنْ سَلْمَانَ - رَفَعَهُ - قَالَ : " يَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : إِذَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا ، وَإِذَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا ، وَإِذَا أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ زَكَرِيَّا بْنِ نَافِعٍ الْأُرْسُوقِيِّ ، وَالسَّرِيِّ بْنِ يَحْيَى ، وَكِلَاهُمَا ثِقَةٌ . وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ . ¤سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ مرفوع روایت کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جب میرا بندہ ایک بالشت میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک ” ذراع “ اُس کے قریب ہوتا ہوں اور جب وہ ایک ” ذراع “ میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک ” باع “ اُس کے قریب ہوتا ہوں اور جب وہ چل کر میری طرف آتا ہے تو میں دوڑ کر اس کی طرف جاتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف زکریا بن نافع ارسوقی اور سری بن یحیی کا معاملہ مختلف ہے اور یہ دونوں ثقہ ہیں ، یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔