مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التوبة— توبہ کے بارے میں روایات
بَابُ إِلَى مَتَى تُقْبَلُ تَوْبَةُ الْعَبْدِ . باب: بندے کی توبہ کب تک قبول ہوتی ہے ؟
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : " مَنْ تَابَ قَبْلَ مَوْتِهِ عَامًا تِيبَ عَلَيْهِ ، وَمَنْ تَابَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ تِيبَ عَلَيْهِ " . حَتَّى قَالَ : " يَوْمًا " . حَتَّى قَالَ : " سَاعَةً " . حَتَّى قَالَ : " فُوَاقًا " . ¤ قَالَ : قَالَ الرَّجُلُ : أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ كَافِرًا فَأَسْلَمَ ؟ قَالَ : إِنَّمَا أُحَدِّثُكُمْ كَمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” جو شخص مرنے سے ایک سال پہلے توبہ کر لے ، اس کی توبہ بھی قبول ہو جاتی ہے ، جو شخص مرنے سے ایک ماہ پہلے توبہ کر لے ، اس کی توبہ بھی قبول ہو جاتی ہے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : یہاں تک کہ انہوں نے ایک دن کا ذکر کیا ، یہاں تک کہ ایک پہر کا ذکر کیا ، یہاں تک کہ تھوڑی سی دیر کا ذکر کیا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے دریافت کیا : اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ اگر وہ شخص کافر ہو اور پھر مسلمان ہو جائے ؟ انہوں نے فرمایا : میں تمہیں وہ چیز بیان کر رہا ہوں ، جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔