مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ . باب: عشاء کی نماز کا وقت
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخَّرَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ حَتَّى انْقَلَبَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ إِلَّا عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَنَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَمْسَةَ عَشَرَ رَجُلًا أَوْ سِتَّةَ عَشَرَ مَا بَلَغُوا سَبْعَةَ عَشَرَ ، فَقَالَ عُثْمَانُ : لَا أَخْرُجُ اللَّيْلَةَ حَتَّى يَخْرُجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأُصَلِّيَ مَعَهُ وَأَعْلَمَ مَا أَمْرُهُ ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ قَرِيبًا مِنْ ثُلُثِ اللَّيْلِ وَمَعَهُ بِلَالٌ ، فَلَمْ يَرَ فِي الْمَسْجِدِ أَحَدًا إِذْ سَمِعَ نَغْمَةً مِنْ كَلَامِهِمْ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ ، فَمَشَى إِلَيْهِمْ حَتَّى سَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ : " مَا يَحْبِسُكُمْ هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ " قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، انْتَظَرْنَاكَ لِنَشْهَدَ الصَّلَاةَ مَعَكَ ، فَقَالَ لَهُمْ : " مَا صَلَّى صَلَاتَكُمْ هَذِهِ أُمَّةٌ قَطُّ قَبْلَكُمْ ، وَمَا زِلْتُمْ فِي صَلَاةٍ بَعْدُ " ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ النُّجُومَ أَمَانُ السَّمَاءِ ، فَإِذَا طُمِسَتِ النُّجُومُ أَتَى أَهْلَ السَّمَاءِ مَا يُوعَدُونَ ، وَإِنِّي أَمَانٌ لِأَصْحَابِي ، فَإِذَا ذَهَبَتْ أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ . وَأَصْحَابِي أَمَانٌ لِأُمَّتِي ، فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ فِي تَأْخِيرِ الْعِشَاءِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز مؤخر کی یہاں تک کہ مسجد میں موجود افراد واپس چلے گئے صرف سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب جن کی تعداد پندرہ یا سولہ تھی سترہ نہیں تھی وہ رہ گئے تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آج رات مسجد سے باہر نہیں جاؤں گا جب تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لے آتے اور میں آپ کی اقتداء میں نماز ادا نہیں کر لیتا اور میں یہ بات نہیں جان لیتا کہ آپ کو کیا معاملہ درپیش آیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک تہائی رات کے قریب تشریف لائے آپ کے ساتھ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ تھے آپ نے مسجد میں کسی شخص کو نہیں دیکھا اسی دوران مسجد کے گوشے سے ان افراد کی آواز سنائی دی تو آپ چلتے ہوئے ان کے پاس تشریف لائے آپ نے انہیں سلام کیا اور دریافت کیا : تم لوگ اس وقت تک کیوں رکے ہوئے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ہم آپ کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ آپ کی اقتداء میں نماز میں شریک ہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہاری یہ نماز تم سے پہلے کسی امت نے ادا نہیں کی اور تم مسلسل نماز کی حالت میں شمار ہوئے ہو پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ستارے آسمان کی امان ہیں جب ستارے بجھ جائیں گے ، تو اہل آسمان پر وہ چیز آ جائے گی ، جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے میں اپنے اصحاب کی امان ہوں جب میں رخصت ہو جاؤں گا ، تو میرے اصحاب پر وہ صورت حال آ جائے گی کہ جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ، اور میرے اصحاب میری امت کے لئے امان ہیں جب میرے اصحاب رخصت ہو جائیں گے ، تو میری امت پر وہ چیز آ جائے گی ، جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں بھی ایک حدیث منقول ہے ، جو عشاء کی نماز تاخیر سے ادا کرنے کے بارے میں ہے ، لیکن وہ اس روایت کے علاوہ ہے -
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔