مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ . باب: عشاء کی نماز کا وقت
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُسْتَوْرِدِ قَالَ : احْتَبَسَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةً ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ فِي الْمَسْجِدِ إِلَّا بِضْعَةَ عَشَرَ رَجُلًا ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا أَمْسَى أَحَدٌ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ غَيْرُكُمْ ، إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ النُّجُومَ أَمَانًا لِأَهْلِ السَّمَاءِ ، فَإِذَا طُمِسَتِ اقْتَرَبَ لِأَهْلِ السَّمَاءِ مَا يُوعَدُونَ ، وَإِنَّ اللَّهَ جَعَلَ أَصْحَابِي أَمَانًا لِأُمَّتِي ، فَإِذَا هَلَكَ أَصْحَابِي أَتَى لِأُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مستودر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرے رہے ، یہاں تک کہ مسجد میں دس سے کچھ زیادہ افراد باقی رہ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لوگوں کے پاس تشریف لائے اور آپ نے ارشاد فرمایا : تمہارے علاوہ اس نماز کا انتظار کرنے والا اور کوئی نہیں ہے بے شک اللہ تعالیٰ نے ستاروں کو اہل آسمان کے لئے امان بنایا ہے ، جب وہ بجھ جائیں گے ، تو اہل آسمان کے قریب وہ چیز آ جائے گئی ، جس کا وعدہ کیا گیا ہے ، اور میرے اصحاب کو اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لئے امان بنایا ہے ، جب میرے اصحاب رخصت ہو جائیں گے ، تو میری امت پر وہ چیز آ جائے گی ، جس کا ان لوگوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔