حدیث نمبر: 1749
وَلِابْنِ عُمَرَ عِنْدَ الْبَزَّارِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْتَمَ لَيْلَةً بِالْعِشَاءِ ، فَنَادَاهُ عُمَرُ : نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ ، فَقَالَ : " مَا يَنْتَظِرُ هَذِهِ الصَّلَاةَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ غَيْرُكُمْ " . وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے امام بزار نے یہ روایت نقل کی ہے : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز مؤخر کر دی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو بلند آواز میں پکارا خواتین اور بچے سو چکے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( تشریف لانے کے بعد ) ارشاد فرمایا : اہل زمین میں تمہارے علاوہ اور کوئی اس نماز کا انتظار نہیں کر رہا ہے - اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1749
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔