وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَرَأْنَاهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ سِنِينَ ] ( وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ ) ، ثُمَّ نَزَلَتْ : إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ ، فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرِحَ فَرَحًا قَطُّ أَشَدَّ فَرَحًا مِنْهُ بِهَا ، وَبِـ : ( إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ، ہم لوگ چند سال تک اس آیت کی تلاوت کرتے رہے : ” اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبود کی عبادت نہیں کرتے ہیں اور وہ اس جان کو قتل نہیں کرتے ہیں ، جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہو ، البتہ حق کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ زنا نہیں کرتے ہیں ۔ “ پھر یہ آیت نازل ہو گئی : ” البتہ اس کا معاملہ مختلف ہے جو توبہ کر لے اور ایمان لے آئے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کسی بات پر اتنا زیادہ خوش نہیں دیکھا ، جتنا آپ اس آیت کے نزول پر اور اس ( آگے والی آیت کے نزول پر ) خوش ہوئے تھے : ” بے شک ہم نے تمہیں فتح مبین عطا کی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔