عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَتْ قُرَيْشٌ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يَجْعَلْ لَنَا الصَّفَا ذَهَبًا ; فَإِنْ أَصْبَحَ ذَهَبًا اتَّبَعْنَاكَ ، فَدَعَا رَبَّهُ ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ : إِنَّ رَبَّكَ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ ، وَيَقُولُ لَكَ : إِنْ شِئْتَ أَصْبَحَ لَهُمُ الصَّفَا ذَهَبًا ، فَمَنْ كَفَرَ مِنْهُمْ عَذَّبْتُهُ عَذَابًا لَا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ ، وَإِنْ شِئْتَ فَتَحْتُ لَهُمْ بَابَ التَّوْبَةِ وَالرَّحْمَةِ ، قَالَ : " بَلْ بَابُ التَّوْبَةِ وَالرَّحْمَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ” قریش نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ اپنے پروردگار سے ہمارے لئے یہ دعا کیجئے کہ وہ صفا پہاڑ کو ہمارے لئے سونے کا بنا دے ، اگر وہ سونے کا بن گیا ، تو ہم آپ کی پیروی کر لیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار سے دعا کی ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور بولے : آپ کا پروردگار آپ کو سلام کہہ رہا ہے ، اس نے آپ سے یہ فرمایا ہے : اگر آپ چاہیں ، تو صفا پہاڑ ان کے لیے سونے کا بن جائے گا ، لیکن اس کے بعد ان میں سے جس شخص نے کفر کیا ، میں اسے ایسا عذاب دوں گا ، جو میں نے تمام جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیا ہو گا ، اور اگر آپ چاہیں ، تو میں ان کے لیے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دیتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : توبہ اور رحمت کے دروازے ( کو میں اختیار کرتا ہوں ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔