حدیث نمبر: 17495
وَعَنْ سَلْمَانَ - يَعْنِي الْفَارِسِيَّ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَحْوُ حَدِيثٍ قَبْلَهُ وَمَتْنِهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَغَسَهُ اللَّهُ مَالًا وَوَلَدًا ، فَقَالَ لِأَهْلِهِ : إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي ، حَتَّى إِذَا صِرْتُ فَحْمًا فَاسْحَقُونِي فَذَرُونِي ; فَإِنَّ رَبِّي إِنْ قَدِرَ عَلِيَّ يُعَذِّبْنِي عَذَابًا لَا يُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ ، فَفَعَلُوا بِهِ ذَلِكَ ، فَأَمَرَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بِهِ ، فَجُمِعَ فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَقَالَ : مَا حَمْلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ قَالَ : خَشْيَتُكَ أَيْ رَبِّ ، فَغُفِرَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ زَكَرِيَّا بْنِ نَافِعٍ الْأُرْسُوقِيِّ ، وَالسَّرِيِّ بْنِ يَحْيَى ، وَكِلَاهُمَا ثِقَةٌ . ¤ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ ، فَأَحَالَهُ عَلَى حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ الَّذِي فِي الصَّحِيحِ ، قَالَ مَثَلَهُ وَلَمْ يَسُقْ مَتْنَهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ، اس کی مانند روایت نقل کرتے ہیں ، جو اس سے پہلے گزری ہے ، تاہم ان کے متن کے الفاظ یہ ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم سے پہلے زمانے میں ایک شخص تھا ، اسے اللہ تعالیٰ نے مال اور اولاد میں کشادگی عطا کی تھی اس نے اپنے گھر والوں سے یہ کہا: کہ جب میں مر جاؤں ، تو تم مجھے جلا دینا اور جب میں کوئلہ بن جاؤں ، تو تم مجھے پیس کر مجھے اُڑا دینا ، کیونکہ اگر میرے پروردگار نے مجھ پر ق ابوپا لیا ، تو وہ مجھے ایسا عذاب دے گا کہ ویسا عذاب وہ تمام جہانوں میں سے کسی کو نہیں دے گا ، اس کے گھر والوں نے ایسا ہی کیا ، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تو اس کے وجود کو اکٹھا کر کے اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا کر دیا گیا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تم نے جو کیا ، ایسا کیوں کیا ؟ اس شخص نے جواب دیا : تیرے خوف کی وجہ سے ، اے میرے پروردگار ! تو اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی مغفرت کر دی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف زکریا بن نافع ارسوقی اور سری بن یحیی کا معاملہ مختلف ہے اور یہ دونوں ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور انہوں نے اس کی نسبت سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ اس حدیث کی طرف کر دی ہے ، جو صحیح میں مذکور ہے اور یہ کہا: ہے : یہ اس کی مانند ہے ، انہوں نے اس کا متن نقل نہیں کیا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17495
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6123)»