حدیث نمبر: 17493
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّهُ كَانَ عَبْدٌ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ ، أَعْطَاهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - مَالًا وَوَلَدًا ، وَكَانَ لَا يَدِينُ اللَّهَ دِينًا ، فَبَقِيَ حَتَّى ذَهَبَ عُمْرٌ ، وَبَقِيَ عُمْرٌ يُذْكَرُ ، فَعَلِمَ أَنَّهُ لَمْ يَبْتَئِرْ عِنْدَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - خَيْرًا ، دَعَا بَنِيهِ فَقَالَ : يَا بَنِيَّ ، أَيَّ أَبٍ تَعْلَمُونِي ؟ قَالُوا : خَيْرَهُ يَا أَبَانَا ، قَالَ : وَاللَّهِ ، لَا أَدَعُ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْكُمْ مَالًا هُوَ مِنِّي إِلَّا أَنَا آخِذُهُ مِنْهُ ، أَوْ لَتَفْعَلُنَّ مَا آمُرُكُمْ بِهِ ، قَالَ : فَأَخَذَ مِنْهُمْ مِيثَاقًا قَالَ : أَمَا لَا فَإِذَا مُتُّ فَخُذُونِي فَأَلْقُونِي فِي النَّارِ ، حَتَّى إِذَا كُنْتُ حُمَمًا فَذُرُّونِي " ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ كَأَنَّهُ يَقُولُ : " اسْحَقُونِي ، ثُمَّ أَذْرُونِي فِي الرِّيحِ لَعَلِّي أَضِلُّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ " ، قَالَ : " فَفُعِلَ بِهِ ذَلِكَ وَرَبِّ مُحَمَّدٍ حِينَ مَاتَ ، قَالَ : فَجِيءَ بِهِ أَحْسَنَ مَا كَانَ ، فَعُرِضَ عَلَى رَبِّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَقَالَ : مَا حَمَلَكَ عَلَى النَّارِ ؟ قَالَ : خَشْيَتُكَ يَا رَبَّاهُ ، قَالَ : إِنِّي لَأَسْمَعُكَ كَرَاهِيَةً " ، قَالَ يَزِيدُ : " أَسْمَعُكَ رَاهِبًا ، فَتِيبَ عَلَيْهِ " . ¤
محمد محی الدین

سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے ایک بندہ تھا ، جسے اللہ تعالیٰ نے مال اور اولاد عطا کئے ہوئے تھے ، لیکن وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کوئی کام نہیں کرتا تھا ، وہ اسی طرح کرتا رہا ، یہاں تک کہ اس کی عمر رخصت ہو گئی ، جب اس کا آخری وقت قریب آیا ، تو اسے یہ خیال آیا کہ اس نے تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی بھلائی پیش ہی نہیں کی ہے ، اس نے اپنے بیٹوں کو بلایا اور بولا: اے میرے بیٹو ! تم مجھے کیسا باپ جانتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : آپ ہمارے بہترین باپ ہیں ، اس نے کہا: اللہ کی قسم ! تم میں سے جس کے پاس بھی میرا جو مال ہے ، وہ میں تم سے واپس لے لوں گا ، یا پھر یہ ہے کہ تم نے وہ کرنا ہے جو میں تمہیں حکم دوں گا ، پھر اس نے ان بچوں سے پختہ عہد لیا اور یہ کہا: میں مر جاؤں ، تو تم میری لاش لے کر مجھے آگ میں ڈال دینا ، یہاں تک کہ جب میں کوئلہ بن جاؤں تو تم مجھے اُڑا دینا ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اپنے زانوں پر رکھ کر یہ فرمایا : تم مجھے پیس دینا اور اُڑا دینا ، تاکہ میں اللہ تعالیٰ سے بچ سکوں ، اس کے ساتھ ایسا ہی کیا گیا ، رب محمد کی قسم ہے ! جب وہ مر گیا ، تو اسے پہلے سے زیادہ اچھی شکل و صورت ( شاید اچھی جسمانی حالت مراد ہے ) میں لایا گیا ، اور اس کے پروردگار کے سامنے پیش کیا گیا ، تو پروردگار نے دریافت کیا : تم آگ میں کیوں گئے ؟ اس نے جواب دیا : اے میرے پروردگار ! تیرے خوف کی وجہ سے ، پروردگار نے فرمایا : میں نے سنا کہ تم اس بات کو ناپسند کرتے ہو ۔ ( یہاں یزید نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ) میں نے تمہیں سنا کہ تم بچنا چاہتے تھے ، تو اس کی توبہ قبول کر لی گئی ۔ “

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17493
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن، ولکن الحدیث صحیح