حدیث نمبر: 17483
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كُنَّا نَقُولُ لِقَاتِلِ الْمُؤْمِنِ إِذَا مَاتَ : إِنَّهُ فِي النَّارِ ، وَنَقُولُ لِمَنْ أَصَابَ كَبِيرَةً ثُمَّ مَاتَ عَلَيْهَا : إِنَّهُ فِي النَّارِ ، حَتَّى أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : ( إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ ) فَلَمْ نُوجِبْ لَهُمْ ، كُنَّا نَرْجُو لَهُمْ وَنَخَافُ عَلَيْهِمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ بِإِسْنَادٍ آخَرَ فِيهِ عُمَرُ بْنُ بُرَيْدَةَ السَّيَّارِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ خَالِدٍ الزَّنْجِيِّ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم مومن کو قتل کرنے والے شخص کے بارے میں یہ کہا: کرتے تھے کہ جب وہ مر جائے گا تو جہنم میں جائے گا اور جو شخص کسی کبیرہ گناہ کا مرتکب ہو اور پھر وہ اسی حال میں مر جائے ، اس کے بارے میں ہم یہ کہتے تھے کہ وہ جہنم میں جائے گا ، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہو گئی : ” بے شک اللہ تعالیٰ اس چیز کی مغفرت نہیں کرے گا کہ کسی کو اس کا شریک قرار دیا جائے ، اس کے علاوہ جس کی چاہے گا مغفرت کر دے گا ۔ راوی کہتے ہیں : تو ہم ان لوگوں کے لئے کوئی چیز واجب نہیں کرتے تھے اور ہم ان کے لیے امید رکھتے تھے اور ان کے بارے میں اندیشے کا بھی شکار تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن مغیرہ ہے اور وہ مجہول ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، انہوں نے اس کو ایک اور سند کے ساتھ بھی نقل کیا ہے ، جس میں ایک راوی عمر بن بریدہ سیاری ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس کے حوالے سے
یہ روایت مسلم بن خالد زنگی سے منقول ہے جس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17483
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13364)»