مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التوبة— توبہ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْمُذْنِبِينَ مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيدِ . باب: اہل توحید سے تعلق رکھنے والے گناہگار افراد
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتِ الْمُوجِبَاتُ مِثْلَ قَوْلِهِ : ( إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا ) ، وَمِثْلَ قَوْلِهِ : ( الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا ) ، وَمِثْلَ قَوْلِهِ : ( وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ ) ، قَالَ : كُنَّا نَشْهَدُ عَلَى مَنْ فَعَلَ شَيْئًا مِنْ هَذَا أَنَّهُ فِي النَّارِ ، فَلَمَّا نَزَلَ قَوْلُهُ : ( إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ ) كَفَفْنَا عَنِ الشَّهَادَةِ ، وَخِفْنَا عَلَيْهِمْ بِمَا أَوْجَبَهُ اللَّهُ لَهُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو عِصْمَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب واجب کرنے والی آیات نازل ہوئیں ، جیسے یہ آیت ہے : ” بے شک وہ لوگ جو یتیموں کا مال ظلم کے طور پر کھاتے ہیں ۔ “ یا یہ آیت ہے : ” وہ لوگ جو سود کھاتے ہیں ۔ “ یا یہ آیت ہے : ” اور جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کر دے گا تو اس کا بدلہ جہنم ہو گا ۔ “ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم لوگ یہ گواہی دیا کرتے تھے کہ جو شخص ان میں سے کسی کام کا ارتکاب کر لے گا ، وہ جہنم میں جائے گا ، یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا : ” بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کی مغفرت نہیں کرے گا کہ کسی کو اس کا شریک قرار دیا جائے ، اس کے علاوہ وہ جس کی چاہے گا مغفرت کر دے گا ۔ “ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : تو اس کے بعد ہم گواہی دینے سے رک گئے اور ہم ان لوگوں کے حوالے سے اندیشے کا شکار ہو گئے اس چیز کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے واجب قرار دی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعصمہ ہے اور وہ متروک ہے ۔